عالم لوہار:شہنشاہِ لوک موسیقی کوبچھڑے46برس بیت گئے
ان کے صاحبزادے عارف لوہارنے بھی والدکے اندازگائیکی کوخوبصورتی سے آگے بڑھایا ہے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)پنجاب کی ثفافت اورلوک گائیکی سے آگاہ لوگ عالم لوہار کے نام سے بخوبی آگاہ ہیں،ان کی آواز میں پنجاب کے سب رنگ ہلکورے لیتے سُنائی ہی نہیں بلکہ دکھائی دیتے تھے،اپنے اندازگائیکی سے ہی نہیں لباس اورکردار سے بھی وہ پنجاب کے گھبرو کی طرح دکھائی دیتے تھے جس کے ہاتھ پاؤں لوہے کی طرح مضبوط اور دل سوز وگداز سے بھرا ہوا ہوتا تھا۔
آج عالم لوہارکی46ویں برسی منائی جارہی ہے،انہوں نے فوک موسیقی میں نئی جہت روشناس کروائی انہیں ہیر وارث شاہ گانے سے ،شہرت حاصل ہوئی،انہیں یہ اعزازبھی حاصل ہے کہ انہوں نے ہیر وارث شاہ کو 36مختلف انداز میں گایا،انہیں گانے کی صنف’’جگنی ‘‘ کا موجد بھی سمجھا جاتا ہے ۔

ان کے معروف ترین گانوں میں’’ واجاں ماریاں بلایا کئی وار میں‘‘ ، ’’ دل والا دکھ نئیں کسی نوں سنائی دا ‘‘ ، ’’ موڈا مار کے ہلا گئی جے مینوں تے ہولی جنی سوری آکھ گئی ‘‘ ، ’’ بول مٹی دیا باویا ‘‘ سیف الملوک ،قصہ کربلا اور جگنی قابل ذکر ہیں۔
عالم لوہار 3جولائی 1979ء کو شامکے بھٹیاں کے قریب ایک ٹریفک حادثے میں جان کی بازی ہارگئے تھےاوروہ لالہ موسیٰ میں جی ٹی روڈپرواقع قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:راحت کاظمی کی 81 ویں سالگرہ پربیٹے علی کاظمی کا جذباتی پیغام وائرل
ان کے بعد ان کے صاحبزادے عارف لوہار نے بھی اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے لہجے میں پنجاب کے پانیوں کی روانی اور پنجاب دھرتی کی خوشبو کو سمیٹ رکھا ہے اورسُننے والے اس خوشبو کو اپنے دل میں مہکتے ہوئے محسوس کرتے ہیں،انہوں نے روایتی چمٹے اورلباس کے ساتھ اپنے والدکے اندازگائیکی اوران کی گائی ہوئی’’جگنی‘‘کو بھی آگے بڑھایا ہے۔