’’نورسحر‘‘ میں علمی نشست’’ رسول اللہ ﷺ کی رحمۃ للعالمینی اور انسانی حقوق ‘‘ کا اہتمام

میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے قبل عرب معاشرہ ظلم، جہالت ، درندگی اور نا انصافی  کا شکار تھا، مگر نبی کریم ﷺ کی آمد  نے انسانیت کو جو عزت، مقام اور حقوق عطا فرمائے، وہ دنیا کی کسی تہذیب میں نظر نہیں آتے۔

Sep 03, 2025 | 11:54:AM
’’نورسحر‘‘ میں علمی نشست’’ رسول اللہ ﷺ کی رحمۃ للعالمینی اور انسانی حقوق ‘‘ کا اہتمام
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)ٹی وی پروگرام "نورِ سحر" میں ایک علمی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں معروف اسلامی اسکالرز اور محققین نے شرکت کی، جس میں رسول اللہ ﷺ کی رحمۃ للعالمینی اور انسانی حقوق سے متعلق مفصل گفتگو کی گئی۔

میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا کے نور نظر، محمدمصطفی  ﷺ کی ولادتِ اور بعثت کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضور ﷺ کی آمد کائنات کے لیے سراپا رحمت تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے قبل عرب معاشرہ ظلم، جہالت ، درندگی اور نا انصافی  کا شکار تھا، مگر نبی کریم ﷺ کی آمد  نے انسانیت کو جو عزت، مقام اور حقوق عطا فرمائے، وہ دنیا کی کسی تہذیب میں نظر نہیں آتے، انہوں نے خطبۂ حجۃ الوداع کو انسانی حقوق کا پہلا عالمی منشور قرار دیا۔

مولانا امیر حمزہ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے تمام مخلوقات کو حقوق دیئے ہیں ، جس میں انسان تو انسان ،چرند پرند اور حیوانات تک کے حقوق کا تحفظ کیا ۔

انہوں نے نبی کریم ﷺ کی رحم دلی کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایک اونٹ نے آ کر اپنے مالک کے ظلم کی شکایت کی، جسے رسول اللہ ﷺ نے دور فرمایا ،جوکہ حیوانات کے حقوق پر ایک عظیم مثال ہے، اسی طرح انہوں نے خلفاء راشدین کی حکمرانی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور حکومت میں کوئی جیل خانہ تک نہ تھا نیز حضرت عمر بن عبدالعزیز کا طرزِ حکمرانی بھی سیرتِ مصطفی ﷺ کا عکس تھا۔

صوفی عبدالحمید نے کہا کہ اسلام میں مذہب کی آزادی دی گئی ہے، انہوں نے مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ کی آمد کو ریاستِ مدینہ کے قیام کی بنیاد قرار دیا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں دو قانون بنا دیئے ،مسلم لاء اور پرسنل لاء ،توجب  یہودیوں کے معاملات آتے تو رسول اللہ ﷺ تورات کے مطابق اس کے فیصلے فرماتے تھے اورمسلمانوں کا فیصلہ قرآن پاک کی روشنی میں فرماتے تھے اور پھر خطبۂ حجۃ الوداع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سب برابر ہیں برتری  تقوی  کی بنیاد پر ہے ۔

پروفیسر فہد علی کاظمی  نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کا وجود اطہر پوری دنیا کیلئے رحمت ہے اور قیامت تک پوری دنیا میں رسول اللہ ﷺ کی رحمت ہی تقسیم ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر دنیا میں امن قائم کرنا ہے تو نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کو اپنانا ناگزیر ہے، حضرت علیؓ نے اپنے قاتل کو معاف کر کے اخلاق کی بلند ترین مثال قائم کی، جبکہ سرکار دو عالم ﷺ نے حضرت وحشیؓ کو بھی معاف فرمایا۔

انہوں نے  فتح مکہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان طبقات کو   بھی حقوق دیئے جن کے کوئی حقوق ہی نہ تھے آخر میں انہوں نے ایک مجرم باپ کی بیٹی کے غم ناک ہونے پر رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں سے اشکوں کی برسات کا واقعہ بھی سنایا اور اہل بیت اطہار کو رسول اللہ ﷺ کے اخلاق عالیہ کا مظہر اتم قرار دیا۔