جیل ریفارمز اور قیدیوں کے حقوق

Aug 30, 2026 | 15:22:PM
جیل ریفارمز اور قیدیوں کے حقوق
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24 News
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

  قیدیوں کو انسان سمجھنا ہی بہت بڑی بات ہے، معاشرے میں جو شخص جیل سے ایک بار چکر لگا لیتا ہے اس کا کردار ہمیشہ کے لیے مخدوش ہو جاتا ہے، جرائم کیوں ہوتے ہیں ؟ کیسے ہوتے ہیں ؟ روک تھام کیوں نہیں ہوتی ؟ اس کی وجوہات کیا ہیں وہ ختم کیوں نہیں کی جاتی ہیں ؟ یہ اہم سوالات ہیں جن کی تفصیلات کو ہم جیل ریفارمز کہہ سکتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جیلوں کے اعلیٰ افسران کو یورپی طرز جیل ریفارمز لانے کے لیے وہاں کی جیلوں کے سسٹم کے نظریات اور مشاہدات کے لیے دورے نہیں کروائے جاتے ۔ جیلوں کے نظام اور قیدیوں کی سہولیات اور تربیت و کردار سازی سب سے اہم مسئلہ ہے،قیدیوں کے جرائم اور زندگیوں سے پورا خاندان متاثر ہوتا ہے، معاشرے اور خاندانی نظام پر اس کے گہرے اثرات پڑتے ہیں، بیویاں خاوندوں پر کیس کر دیتی ہیں اور خاوند جیل کاٹتے ہیں،اس خاندان کا پورا نظام تباہ ہوجاتا ہے، معاشرے کے نظاموں کو درست کرنا سب سے اہم مسئلہ ہے، جرائم اور قیدی خود بخود کم ہو جائیں گے۔

  نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں جیل اصلاحات کانفرنس ہوئی  جس میں چا روں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے ملک بھر میں جیل نظام میں جامع اور دیرپا اصلاحات کیلئے مشترکہ قومی عزم  اور نفاذکا عندیہ دیا ۔ کانفرنس میں جیلوں میں گنجائش سے زا ئد قیدیوں، ناکافی سہولیات اور زیرِ سماعت قیدیوں کی بڑی تعداد پر شدید تشویش ظاہر کی گئی، آزادی سے محروم تمام افراد کے آئینی اور بنیادی ا نسا نی حقوق کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے ۔ خواتین، بچوں، معذور افراد اور معمولی نوعیت کے جرائم میں ملوث افراد کی غیر ضروری قید کم کر نے کیلئے مؤثر اقدامات کیے جانے کا ارادہ ظاہر کیا گیا، اس مقصد کیلئے ضمانت، قانونی امداد، پروبیشن اور پیرول کے نظام کو مزید فعال اور مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ گرفتا ر ی، حراست، سزا، جیل انتظامیہ اور پیرول سے متعلق موجودہ قوانین کا جامع جائزہ لیا جانا ضروری ہے  تاکہ انہیں جدید تقاضوں اور انسانی حقوق کے اصولوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے، جیلوں میں انفراسٹرکچر، صفائی، معیاری خوراک، طبی سہولیات اور ذہنی صحت کی خدمات بہتر بنانا بھی بہت ضروری ہے ۔ اس کیساتھ ساتھ قیدیوں کی تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت، نفسیا تی معاونت اور بحالی کے پروگرامز کو وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ سزا مکمل کرنے کے بعد وہ معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔ رہائی کے بعد سابق قیدیوں کی معاشرے میں مؤثر دوبارہ شمولیت کیلئے ایک جامع نظام تشکیل دیا جائے گا جبکہ پولیس، عدلیہ، استغاثہ، جیل حکام اور قانونی امدادی اداروں کے درمیان رابطہ اور تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے، مقدمات کے جلد فیصلے اور انصاف تک بروقت رسائی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں ، ہر صوبہ جیل اصلا حا ت کیلئے واضح ٹائم لائن کیساتھ عملدرآمد کا منصوبہ تیار کریگا جبکہ اصلاحات پر پیش رفت، قیدیوں کی تعداد میں کمی اور بحالی کے اقدامات سے متعلق باقاعدہ رپورٹنگ کا نظام بھی قائم کیا جائے گا۔

جیل اصلاحات  محض انتظامی معاملہ نہیں بلکہ آئینی ذمہ داری، انسانی حقوق کے تحفظ اور عوامی سلامتی کا بنیادی تقاضا ہے ، چارو ں وزرائے اعلیٰ نے انسانی وقار، قانون کی حکمرانی اور اصلاحی اصولوں پر مبنی جدید جیل نظام کے قیام کے عزم کا اعادہ بھی کیا، جیل اصلاحات پر قومی کانفرنس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے جیل اصلاحات پرقومی کانفرنس کے موقع پر ”اسلام آباد ڈیکلریشن“ پردستخط کر دیئے۔  چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے قومی کانفرنس سے اپنے خطاب میں کہا نظامِ انصاف میں قیدیوں کے حقوق کو کلیدی حیثیت حاصل ہے، جیلوں کے حالات بہتر بنانا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے، جیلوں میں صحت اور صاف پانی کی سہولت کی فراہمی ناگزیر ہے۔ زیر التوا کیسز نمٹانے میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، جیلوں کے حالات بہتر بنانا آئینی طور پر صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے، نظام انصاف میں بہتری محض فیصلوں سے نہیں بلکہ مؤثر عملدر آمد سے آئیگی، نظام انصا ف میں احتساب کو یقینی بنایا جا رہا ہے، فوجداری نظامِ انصاف کسی بھی معاشرے کیلئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ جیلوں کی حالت زار بہتر بنانے کیلئے صوبائی سطح پر کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں  ،سپریم کورٹ میں جیل اصلاحات پر قومی کانفرنس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور اسلام آباد، لاہور، پشاور، بلوچستان اور سندھ ہائیکورٹس کے چیف جسٹس اور چیف جسٹس شریعت کورٹ، پولیس اور جیل خانہ جات حکام بھی شریک ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:این اے 168 ضمنی الیکشن؛ مسلم لیگ ن نے ٹکٹ جاری کردیا

 وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا جیل اصلاحات محفوظ اور بہتر معاشرے کی تشکیل کی جانب اہم قدم ہیں، قیدیوں کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ اور انہیں معاشرے کا مفید شہری بنانا حکو مت کی ترجیح ہے،وہ قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہیں اور قانون سے کوئی بھی بالا نہیں ہے، شفافیت پر مبنی انصاف کی مؤثر فراہمی ہر شہری کا بنیادی حق ہے جبکہ قیدیوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں، پنجاب حکومت نے جیل اصلاحات کیلئے متعدد اقدامات کیے ہیں، اصلاحات کے ذر یعے قیدیوں کی ذہنی صحت، کونسلنگ اور بحالی کے پروگرامز پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے تاکہ انہیں معاشرے کا مفید شہری بنایا جا سکے۔ پنجاب کی مختلف جیلوں میں قیدیوں کیلئے آڈ یو اور ویڈیو کال کی سہولت بھی فراہم کی جا چکی ہے، جیل اصلاحات کا مقصد اصلاحی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور انصاف کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے،پنجاب میں  جیلوں میں نئی جدید ریفارمز کو متعارف کروایاگیا ہے ۔

جیل اصلاحات کانفرنس سے خطاب میں بلوچستان کے وزیراعلی سرفراز بگٹی نے کہا جیل اصلاحات بلو چستا ن حکو مت کی ترجیح رہی ہیں۔ نشے میں مبتلا قیدیوں کی بحالی کیلئے بھی عملی اقدامات کیے ہیں۔ جیلوں کی سکیورٹی پر خصوصی توجہ دی ہے،جیل میں قیدیوں کو جدید خطوط پر مختلف ہنر سکھا نے کے پروگرام بھی شروع کیے ہیں۔  بلوچستان کی جیلوں میں جگہ کم ہونے کے باعث نئی جیلیں بنائی جا رہی  ہیں، نئی جیلیں جدید طرز کی جیلیں ہیں جہاں  قید یوں کو تمام سہولیات میسر ہونگی، جیلوں میں سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کیے جارہے ہیں، جیل اصلاحات کمیٹی کی سفارشات پر مکمل طور عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بادل برس پڑے; محکمہ موسمیات نےمزیدبارشوں کی پیشگوئی کردی
 جیلوں میں سزا کاٹنے والے قیدی بنیادی انسانی حقوق کے مستحق ہیں کیونکہ وہ قیدی مجرم ہونے کے ساتھ ساتھ انسان بھی ہیں۔ قیدیوں کی اصلاح اور انہیں معاشرے کاکار آمد شہری بنانے کے لئے خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔جیلوں میں قیدیوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے ہر ممکن وسائل کو یقینی بنایا جانا چاہیے، قیدیوں کوسزاکے دوران اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ انہیں مختلف ٹیکنیکل کورسز بھی کرائے جائیں تاکہ رہا ئی کے بعدوہ اپنی روزی کما سکیں۔ جیل کے ماحول کو صاف ستھرا اور پر امن بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں،قیدیوں کی صحت کے لئے طبی سہولیات کا ہونا ضروری ہے۔جیل میں بدنظمی اور افراتفری پھیلانے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے، پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لئے مختلف اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ جیلوں میں قیدیوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ جیل میں ماحول کو بھی بہتربنایا گیا ہے۔آئی جی جیل خانہ جات میاں سالک جلال  کا کہنا ہے کہ جیلوں میں جو ریفار مز پہلےلائی جا چکی ہیں اس پر عملدر آمد تیزی سے جاری ہے، پنجاب کی جیلوں میں نئی اصلاحات سالک جلال نے بھی لانے کے لیے احکامات جاری کیے ہیں جس کے تحت  قیدیوں پر تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ آئی جی جیل خانہ جات میاں سالک جلال نے تمام جیلوں میں سیفٹی اور سکیورٹی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے 9 پوائنٹس پر مشتمل ایجنڈا جاری کر دیا۔ جیلوں میں 7/24 سی سی ٹی وی کنٹرول روم لازمی ، سپرنٹنڈنٹ خود مانیٹرنگ کریں گے۔ قیدیوں پر تشدد زیرو ٹالرینس شکایت پر فوری انکوائری اور سخت کارروائی کا حکم جیلوں میں سرپرائز سرچ ، لاک اپ اور قیدیوں کی نقل و حرکت سخت ضابطے کے تحت ہوگی۔ قیدیوں کو عزت ، صاف رہائش ، معیاری صحت اور شفاف ملاقات کی سہولت دینے کی ہدایت کی گئی ہے، جیلوں میں موبائل ریپر ویلڈنگ ، کمپیوٹر لٹریسی سمیت 15 ہنر سکھا کر بحالی کا پروگرام،جیل سٹاف کی فلاح اولین ترجیح ، امداد اور اسکالرشپ کے کیسزفوری نمٹائے جائیں۔ کرپشن ، سفارش اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر زیرو ٹالرنس کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ ڈی آئی جی جیل ماہانہ انسپکشن کریں گے، شکایات کی صورت میں متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ آئی جی جیل نے تمام ڈی آئی جیز اور سپر نٹنڈنٹس کو مراسلہ جاری کر دیاہے۔

 پنجاب کے جیل خانوں میں قیدیوں کی تعداد زیادہ ہے اور جیلیں کم ہیں جس سے قیدیوں کو مشکلات اور مصائب کا سامنا ہے دیگر جیل ریفارمز کا مسودہ تیار ہے جس کے کچھ نقاط سامنے آئے ہیں ان میں رہائی پانے والے قیدیوں کو کاروبارو کے لیے اخوت بلاسود قرضہ جاری کرے گی تاکہ وہ جیل سے باہر نکل کر با عزت روزگار حاصل کر سکیں.