چین کی جاپان پر فتح کی یاد میں تقریب، وزیراعظم شہباز شریف شریک، مودی نظر انداز

Sep 03, 2025 | 08:54:AM
چین کی جاپان پر فتح کی یاد میں تقریب، وزیراعظم شہباز شریف شریک، مودی نظر انداز
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (ویب ڈیسک )جنگ عظیم دوم میں جاپان کی شکست کی 80 ویں سالگرہ پر  چین میں قومی تاریخ کی سب سے بڑی اور شاندار  فوجی پریڈ کا انعقاد کیا گیا۔

تیانمن اسکوائر پر ہونے والی تاریخی پریڈ میں وزیراعظم شہباز شر یف نے شرکت کی  جبکہ  روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، شمالی کوریا کے رہنما اور  ایران کے صدر مسعود پزشکیان سمیت مختلف ممالک کے نما ئندے بھی پریڈ میں شریک ہوئے۔

چین کے قومی پرچم بردار ہیلی کاپٹرز اور جدید لڑاکا طیاروں نے چینی صدر شی جن پنگ کو سلامی بھی پیش کی۔
اس دوران  ہائپر سونک گلائیڈرز، وائے جے-21 جہاز شکن کروز میزائل اور آبدوز سے لانچ کیے جانے والے جے ایل-3 بیلسٹک میزائل بھی دکھائے گئے،پریڈ میں چین کے جوہری بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBM) کی نمائش بھی کی گئی۔

اس تقریب میں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو شرکت کی دعوت ہی نہیں دی گئی تھی۔

چین نے’’گوام کلر‘‘ نامی ڈونگ فینگ 26 ڈی میزائل کی نقاب کشائی بھی کی۔
یہ درمیانی فاصلے تک مار کرنے والا میزائل ہے جو بحرالکاہل میں لڑاکا طیاروں کے ایک گروپ یا امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔

چین کے صدر شی جن پنگ نے پریڈ کےلیے آئے مہمانوں کا استقبال کیا۔

 چینی صدر نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ  دنیا بھر سے آئے عالمی رہنماؤں کو خوش آمدید کہتا ہوں۔

 یہ بھی پڑھیں:بھارت کےساتھ بہت کاروبارکیالیکن۔۔۔ٹرمپ نے مودی کو پھر آڑے ہاتھوں لے لیا

 صدر شی جن پنگ نے کہاکہ دنیا اس وقت امن یا جنگ کے فیصلے کے دوراہے پر کھڑی ہے، انہوں نے کہا کہ انسانیت کو آج جنگ یا امن میں سے ایک کو چُننا ہے،  چینی صدر نے اقوام سے تاریخی سانحات کو دوبارہ ہونے سے روکنے کی اپیل کردی۔

 صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چینی عوام امن کے لیے پُر عزم اور تاریخ کے درست رخ پر کھڑے ہیں، چینی قوم کی ترقی اور خوشحالی کو نہیں روکا جاسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسا عالمی نظام چاہتے ہیں جو انصاف اورمساوات پر مبنی ہو، انہوں نے واضح کیا کہ ہم جتنے بھی مضبوط ہوجائیں کبھی توسیع پسندانہ راستہ اختیار نہیں کریں گے۔

  پریڈ میں ہائپر سونک میزائل، ایٹمی ہتھیاروں سمیت جدید ترین چینی فوجی ٹیکنالوجی کی نمائش کی گئی۔ 

 فضائیہ، بحریہ، اور بری فوج سے وابستہ مرد وخواتین فوجیوں نے انتہائی چابک دستی سے پریڈ میں حصہ لیا اور صدر شی کو ولولہ انگیز انداز  سے سلامی پیش کی۔

پریڈ میں طویل فاصلے تک مارکرنیوالے بین البراعظمی نیوکلیئر ہتھیار بھی شامل تھے، اس حوالے سے دعوی کیا گیا  کہ یہ ہتھیار دنیا میں کہیں بھی ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

 فوجیوں کے دستوں نے چند ہی لمحوں میں ٹینکوں اور میزائل بردار فوجی گاڑیوں میں سوار ہو کر حیرت انگیز انداز سے پوزیشن لینے کا بھی مظاہرہ کیا۔