47 کروڑ سے زائد بچوں کامستقبل محفوظ بنانے کی ضرورت ہے:سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز )قیام امن اور سیاسی امور کے لیے اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں 20 فیصد یا 47 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ بچے جنگ زدہ علاقوں میں اور ان کے قریب رہتے ہیں یا وہاں سے نقل مکانی پر مجبور ہیں جنہیں تحفظ فراہم کرنے اور روشن مستقبل کے مواقع دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مسلح تنازعات میں بچوں، ٹیکنالوجی اور تعلیم کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت دنیا کو دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑی تعداد میں جنگوں کا سامنا ہے۔ ان میں جس قدر بڑی تعداد میں شہریوں کی ہلاکتیں ہو رہی ہیں اس کی گزشتہ دہائیوں میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ جب تنازعات بھڑکتے ہیں تو ان کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2023 اور 2024 کے درمیان بچوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے واقعات میں 25 فیصد اضافہ ہوا۔ بحرانوں یا تنازعات کا سامنا کرنے والے 23 کروڑ 40 لاکھ بچوں کو تعلیمی معاونت درکار ہے جبکہ 8 کروڑ 50 لاکھ بچے سکول جانے سے محروم ہیں، 2024 میں سکولوں اور ہسپتالوں پر 2,374 حملوں کی تصدیق ہوئی جن میں زیادہ تر واقعات یوکرین، اسرائیل، مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور ہیٹی میں پیش آئے۔
انڈر سیکرٹری جنرل نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2601 کا حوالہ دیا جو تمام فریقین پر زور دیتی ہے کہ وہ سکولوں، بچوں اور اساتذہ کو عسکری کارروائیوں کا ہدف نہ بنائیں اور تعلیم کے حق کا تحفظ، احترام اور فروغ یقینی بنائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو روز کے دوران مشرق وسطیٰ میں جاری عسکری کارروائیوں کے باعث اسرائیل، متحدہ عرب امارات، قطر، بحران اور عمان میں سکول بند کر کے آن لائن تعلیم کی طرف منتقل کر دیے گئے ہیں۔روزمیری ڈی کارلو نے ایران سے موصول ہونے والی ان اطلاعات کا حوالہ بھی دیا جن کے مطابق میناب شہر کے ایک پرائمری سکول پر حملے میں ممکنہ طور پر بیسیوں بچوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔
انڈر سیکرٹری جنرل نے تنازعات کے دوران معیاری تعلیم کی فراہمی میں درپیش مسائل کا ذکر بھی کیا جن میں بجلی اور انٹرنیٹ کی عدم دستیابی اور اساتذہ کی کمی شامل ہیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل تعلیم کے امکانات، اس شعبے میں اقوام متحدہ کی سرمایہ کاری اور سرکاری و نجی شراکت داری کی اہمیت کے بارے میں بتایا۔
ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے اداروں نےمائیکروسافٹ اور ووڈافون جیسی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کی ہے، جبکہ یونیسکو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے افغان لڑکیوں کو گھروں اور ان کے علاقوں میں تعلیم فراہم کر رہا ہے جہاں 22 لاکھ لڑکیاں ثانوی تعلیم تک رسائی سے محروم ہیں۔
انہوں نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بڑھتی ہوئی ضروریات کے باوجود ہنگامی حالات میں تعلیم کے لیے مہیا کیے جانے والے مالی وسائل میں 24 فیصد کمی آئی ہے اور رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اس خلا کو پر کرنے کے لیے مزید اقدامات کریں۔
یہ بھی پڑھیں :پاکستان ہاکی ٹیم کی انٹرنیشنل رینکنگ میں بہتری ہوگئی