چار سال قبل اغوا ہونیوالی لڑکی کی عدم بازیابی کا کیس، آئی جی پنجاب لاہور ہائیکورٹ میں پیش
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ملک اشرف)لاہور ہائی کورٹ میں چار سال قبل اغوا ہونے والی لڑکی کی عدم بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں مغویہ کی عدم بازیابی پر آئی جی پنجاب عدالت میں پیش ہوئے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سماعت سائلہ سلمیٰ بی بی کی درخواست پر کی، آئی جی پنجاب عبد الکریم اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقاص عمر کے ہمراہ پیش ہوئے۔
ڈی آئی جی لیگل ملک اویس احمد، آر او سی سی ڈی آفتاب پھلروان اور ایس پی ناصر پنجوتا بھی عدالت میں موجود تھے۔
دورانِ سماعت اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے آئی جی پولیس کی جانب سے رپورٹ پیش کی۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ “سلمیٰ بی بی کیوں پیش نہیں ہو رہیں؟” جس پر وقاص عمر نے رپورٹ عدالت کے روبرو پیش کی۔
مزید پڑھیں:سکیورٹی خدشات،IMF کا دورہ پاکستان ختم
چیف جسٹس نے مزید پوچھا کہ رپورٹ میں درج نکات کا نئی ضمنی رپورٹ میں بھی ذکر کیا گیا ہے یا نہیں۔
آئی جی پنجاب عبد الکریم نے عدالت کو بتایا کہ نئی ضمنی رپورٹ میں تمام تفصیلات شامل ہیں اور کیس میں ایک اہم سراغ ملا ہے جس پر کام جاری ہے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس سراغ پر کارروائی کے لیے کتنا وقت درکار ہے، جس پر آئی جی پنجاب نے دو ہفتوں کی مہلت طلب کی۔
عدالت نے آئی جی پنجاب کی استدعا منظور کرتے ہوئے مغوی لڑکی کی بازیابی کے لیے 24 مارچ تک مہلت دے دی اور کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔