ایران پر حملوں میں اے آئی کی انٹری! کون سا سسٹم استعمال ہوا؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے خلاف حالیہ مشترکہ فوجی کارروائیوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کے استعمال کا انکشاف سامنے آیا ہے، رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان حملوں میں 550 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جن میں اعلیٰ عسکری شخصیات بھی شامل ہیں۔
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے مبینہ طور پر سان فرانسسکو میں قائم اے آئی کمپنی اینتھروپک کے تیار کردہ مصنوعی ذہانت کے ٹول "کلاؤڈ" (Claude) کو مختلف فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا، ذرائع کے مطابق اس ٹیکنالوجی کو انٹیلی جنس تجزیے، ممکنہ اہداف کی نشاندہی اور جنگی منظرناموں کی مشقوں (وار گیمز) میں بروئے کار لایا گیا۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اے آئی سسٹم نے وسیع پیمانے پر ڈیٹا کا تجزیہ کرکے دشمن کے ٹھکانوں، نقل و حرکت اور فوجی سرگرمیوں سے متعلق معلومات فراہم کیں، جس سے کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں مدد ملی۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مبینہ طور پر وفاقی اداروں کو اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے روکنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی تھی، ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب کمپنی نے اپنے اے آئی ماڈلز کو براہِ راست فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملہ ایران نے نہیں کیا:ایرانی نائب وزیر خارجہ
امریکی حکام نے اس صورتحال کو قومی سلامتی سے جوڑتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ دفاعی اداروں کو جدید ٹیکنالوجی تک مکمل رسائی نہ ہونا سیکیورٹی خدشات کو جنم دے سکتا ہے۔
دوسری جانب اینتھروپک نے ممکنہ پابندی کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے، کمپنی کا کہنا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کے استعمال پر غیر ضروری قدغن تحقیق و ترقی کے عمل کو متاثر کرسکتی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق "کلاؤڈ" ٹول کو اس سے قبل بھی متعدد حساس آپریشنز میں استعمال کیا جا چکا ہے، جن میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو سے متعلق انٹیلی جنس سرگرمیاں بھی شامل بتائی جاتی ہیں۔