اس کی تو ایک ٹانگ ہی نہیں؛ سپریم کورٹ نے چرس سمگلنگ کا  سزا یافتہ ملزم بری کر دیا

Jun 03, 2026 | 19:17:PM
اس کی تو ایک ٹانگ ہی نہیں؛ سپریم کورٹ نے چرس سمگلنگ کا  سزا یافتہ ملزم بری کر دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)  سپریم کورٹ نے  200 کلوگرام چرس سمگلنگ کے مقدمہ میں زیریں عدالت اور ہائی کورٹ سے سزا یافتہ مجرم کی سزا اس بنا پر ختم کر دی کہ اس کی ایک ٹانگ نہیں ہے اور وہ ایک ٹانگ کے ساتھ  ٹرک نہیں چلا سکتا۔  

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم کاکڑ نے اپیل کی سماعت کی اور  دس سال قید کی سزا ختم کر کے زیریں عدالتوں سے چرس کی سمگلنگ کا مجرم قرار پائے ہوئے شخص کو بری کر دیا۔

 سپریم کورٹ میں 200 کلو گرام چرس برآمدگی کیس میں ملزم کی بریت کی اپیل پر سماعت کے دوران بینج کے سربراہ جسٹس ہاشم کاکڑ کے دلچسپ ریمارکس  سامنے آئے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے 200 کلوگرام چرس برآمدگی کیس میں ملزم کی بریت کی اپیل پر سماعت کی اور عدالت نے ملزم رضا خان کو اپیل منظور کرتے ہوئے بری کر دیا۔

وکیل صفائی نے عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ کسی اور ملزم پر درج 200 کلوگرام چرس برآمدگی کے مقدمے میں میرے موکل کو سزا دی گئی۔

 ملزم کے وکیل نے بتایا کہ منشیات برآمدگی کے چار ماہ 18 دن بعد اس برآمد شدہ مواد فورنزک ٹیسٹ کیلئے لیبارٹری کوبھیجا گیا۔ یہ مقدمہ بنایا گیا کہ ملزم اس ٹرک کو چلا رہا تھا جس سے منشیات برآمد ہوئیں جبکہ میرے موکل کی تو ایک ٹانگ ہی نہیں پھر ٹرک کیسے چلا سکتا تھا۔  
 عدالت نے ملزم کے وکیل کے اس مؤقف کو تسلیم کر لیا اور جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیئے  کہ ایک ٹانگ والے کی تو قربانی بھی نہیں ہوسکتی۔

یہ بھی پڑھیں:  صدر ٹرمپ  نے دس فیصد گلوبل ٹیرف لگا دیا،  نئی ٹیرف وار چھڑنےکاخطرہ 

جسٹس ہاشم کاکڑ نے  یہ ریمارکس بھی دیئے کہ کیا چار ماہ تک چرس مال خانے میں عبادت کر رہی تھی۔

سماعت کے دوران خاتون سرکاری وکیل نے مقدمے کےتفتیشی کے خلاف کارروائی کی استدعا کی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ اس مقدمے میں سزا کس جج نے دی ہے۔

وکیل صفائی نے بتایا کہ ایڈیشنل سیشن جج خضدار نے ملزم کو 10 سال سزا سنائی اور بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس کامران ملاخیل نے سزا برقرار رکھی۔

یہ بھی پڑھیئے:   گھریلو گیس صارفین کیلئے اچھی خبر ہے، علی پرویز ملک