بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات شامل کئے جا رہے ہیں:وزیراعظم
شہباز شریف سے صنعتکاروں اور ممتاز کاروباری شخصیات کے وفد کی ملاقات، حکومت کی معاشی پالیسیوں، ٹیکس اصلاحات، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کے اقدامات کو سراہا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(اویس کیانی)وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملک کے معروف صنعتکاروں اور ممتاز کاروباری شخصیات کے وفد نے ملاقات کی۔
ملاقات ملک کی مجموعی معاشی ترقی کی رفتار کو تیز کرنے اور مالی سال 2026-2027 کے بجٹ کے حوالے سے کاروباری برادری سے مشاورت کے تناظر میں ہوئی۔
وفد میں میاں محمد منشاء ، عارف حبیب، عاطف باجوہ، محمد علی تبہ، مصدق ذوالقرنین، زیاد بشیر, شہزاد سلیم، زیلاف منیر، عمر سعید، عمر منشاء، یوسف سعید، کامران ارشد، خرم مختار ، آصف پیر ، سلطان گوہر اعجاز، فواد انور، ذوالفقار حیات، جاوید اقبال، یوسف حسین، عامر ابراہیم, خواجہ مسعود اختر اور اعجاز نبی شامل تھے۔
وزیراعظم نے وفد کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ آپ لوگ پاکستان کے سفیر اور دنیا میں ہماری پہچان ہیں، مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر وہ کاروباری برادری کے شکر گزار ہیں، وزیراعظم کے مطابق حکومت اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کی ضمانت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کے حوالے سے پالیسی سازی میں کاروباری برادری سے مشاورت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان الیکشن! مسلم لیگ ن کو بڑی کامیابی مل گئی
انہوں نے کہا کہ حکومت برآمدات پر مبنی ترقی کی راہ پر گامزن ہے جو معاشی پالیسی کا محور ہے، غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ کاروبار دوست پالیسیوں کی بدولت ملکی معیشت مستحکم ہوئی ہے اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے،حکومت ایسی صنعتوں کے فروغ کے لیے کوشاں ہے جن سے ملکی پیداوار میں اضافہ ہو، برآمدات بڑھیں اور روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ صنعت، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ترقی سے معیشت کو مزید استحکام ملے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے،نوجوانوں کے لیے تکنیکی و فنی تربیت کے پروگرام شروع کیے گئے ہیں تاکہ انہیں روزگار کے مواقع حاصل کرنے میں آسانی ہو اور وہ قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔
اجلاس میں وفد کو کاروبار، صنعت و تجارت کے فروغ کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹیکس مقدمات کے جلد فیصلے کے لیے ٹیکس ٹریبونلز میں اصلاحات کی گئی ہیں اور ان ٹریبونلز میں انتہائی شفاف طریقہ کار کے ذریعے بھرتیاں کی گئی ہیں، اسپیشل کمرشل کورٹس کے قیام کے حوالے سے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں:20 سال بعد۔۔۔!نئی کاواساکی موٹرسائیکل نےدھوم مچا دی
مزید بتایا گیا کہ کراچی کی بندرگاہوں سے اندرون ملک رسائی بہتر بنانے کے لیے موٹر وے ایم-10 کی اپ گریڈیشن اور پیپری فریٹ کوریڈور پر کام جاری ہے، موٹر وے ایم-13 (کھاریاں-راولپنڈی) کی تعمیر سے لاہور اور اسلام آباد کے درمیان فاصلہ کم ہو جائے گا۔
بریفنگ کے مطابق پاکستان ریلوے کی ایم ایل-1 اور ایم ایل-2 کی اپ گریڈیشن سے ریلوے انفرااسٹرکچر بہتر ہوگا اور تجارتی سامان کی ترسیل میں بہتری آئے گی، نیشنل اے آئی ٹرانسفارمیشن پلان تشکیل دیا جا رہا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ شوگر اور سیمنٹ سیکٹر میں ویڈیو اینالیٹکس کی تنصیب سے ریونیو میں بہتری آئی ہے۔
وفد نے خطے میں امن کی بحالی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر وزیراعظم اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا، کاروباری رہنماؤں نے وزیراعظم کی قیادت میں معاشی بحالی کے سفر اور بہتر مالیاتی انتظام پر اعتماد کا اظہار کیا۔
کاروباری وفد نے ملکی معیشت کو درست سمت میں گامزن کرنے اور کاروبار و سرمایہ کاری کے لیے موزوں ماحول فراہم کرنے پر وزیراعظم اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور دستاویزی معیشت کے فروغ کے حکومتی وژن کو سراہا گیا۔
مزید پڑھیں:تیل کی قیمتوں کو پر لگ گئے
وفد نے ٹیکس اصلاحات اور کاروباری آسانیوں کے فروغ کے اقدامات کا خیرمقدم کیا جبکہ صنعتوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی، ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ لیوی کے خاتمے اور ٹیکس ریفنڈ کی بروقت ادائیگیوں پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔
شرکاء نے آئندہ بجٹ کی تیاری میں کاروباری برادری کو اعتماد میں لینے کے اقدام کو سراہا اور قومی معیشت کی مضبوطی کے لیے اپنی تجاویز بھی پیش کیں، کاروباری برادری نے معاشی بحالی اور ترقی کے لیے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
وفد کے شرکاء نے صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے حکومتی عزم کو بھی سراہا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین ، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد لغاری ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان، اٹارنی جنرل منصور اعوان ، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔