بھارت یکطرفہ حملوں کو "نیا معمول" بنانے کی کوشش کر رہا ،بلاول بھٹو کیUNO میں فرانسیسی نمائندے سے ملاقات
Stay tuned with 24 News HD Android App
(انور عباس) اقوام متحدہ میں فرانس کے مستقل نمائندے جیروم بونافون نے پاکستان کے اعلیٰ سطح کے پارلیمانی وفد سے ملاقات کی، جس کی قیادت پاکستان کے سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کر رہے تھے۔ وفد نے فرانسیسی سفیر کو جنوبی ایشیا میں بھارت کی حالیہ فوجی جارحیت اور یکطرفہ اقدامات کے بعد پیدا ہونے والی خطرناک سیکیورٹی صورتحال سے آگاہ کیا۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ بھارت خطے میں یکطرفہ حملوں کو "نیا معمول" بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ترجمان پاکستانی مستقل مشن کے مطابق بلاول بھٹو نے انہیں آگاہ کیا کہ بھارت کی جانب سے پہلگام حملے کا الزام بغیر کسی معتبر تحقیقات یا ثبوت کے پاکستان پر عائد کرنا نہایت سنگین نتائج کا باعث بن رہا ہے،انہوں نے بھارت کی جانب سے پاکستانی شہریوں پر یکطرفہ فوجی حملوں، ہلاکتوں اور زخمیوں، شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے کی مذمت کی،،انہوں نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو من مانی طور پر معطل کرنے، اور بھارت کی مسلسل جارحانہ روش کی شدید مذمت کی،بھارتی جارحانہ روش بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور خطے کے نازک اسٹریٹجک توازن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔پاکستانی پارلیمانی وفد کے سربراہ نے بھارتی اشتعال انگیزیوں کے باوجود پاکستان کے ذمہ دارانہ اور پُرامن رویے پر زور دیا۔
اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں پر مبنی ہے،انہوں نے متنبہ کیا کہ بھارت خطے میں یکطرفہ حملوں کو "نیا معمول" بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے ایٹمی خطے جیسے جنوبی ایشیا میں نہایت سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ سب سے زیادہ دہشتگرد حملے پاکستان میں ہو رہے ہیں
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان خود دہشتگردی کا سب سے بڑا شکار ہے،انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کردار اور قربانیاں عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں، پاکستانی وفد کا کہنا تھا کہ دہشتگردی جیسے سنگین مسئلے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔بلاول بھٹو زرداری نے زور دیا کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا پُرامن حل، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہے،انہوں نے فرانس سے اپیل کی کہ وہ جنگ بندی کے تسلسل کو یقینی بنانے، سندھ طاس معاہدے کی بحالی، اور پاکستان و بھارت کے درمیان جامع مذاکرات کے آغاز کے لیے کردار ادا کرے۔
اقوام متحدہ میں فرانس کے مستقل نمائندے نے خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنے ملک کی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔فرانسیسی مستقل مندوب نے تحمل، مکالمے اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کی اہمیت کا اعادہ کیا۔وفد میں شامل اراکین بھی اس موقع پر موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: چھٹی کلاس کےطالب علم سے زیادتی،مجرم کو 14 سال قید اور جرمانے کی سزا