جی ڈی پی میں اضافہ،تھنک ٹینک نے حقائق نامہ جاری کر دیا
درآمدات بڑھنے کی وجہ سے معاشی شرح نمو میں اضافہ ظاہر کیا گیا ہے, ملکی معاشی شرح نمو میں حقیقی اضافہ نظر نہیں آ رہا۔ کاروباری سرگرمیوں میں حقیقی اضافے کے بغیر گروتھ صرف کاغذوں پر نظر آئے گی :تھنک ٹینک
Stay tuned with 24 News HD Android App
(وقاص عظیم)معاشی تھنک ٹینک ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ نے سہ ماہی جی ڈی پی میں اضافے پر حقائق نامہ جاری کردیا۔
تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ درآمدات بڑھنے کی وجہ سے معاشی شرح نمو میں اضافہ ظاہر کیا گیا ہے, ملکی معاشی شرح نمو میں حقیقی اضافہ نظر نہیں آ رہا۔ کاروباری سرگرمیوں میں حقیقی اضافے کے بغیر گروتھ صرف کاغذوں پر نظر آئے گی .
معاشی تھنک ٹینک ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی میں اضافے سے متعلق حقائق نامہ پیش کیا گیا ہے ، تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں معاشی شرح نمو 3.71 فیصد کا دعویٰ کیا گیا ہے, جی ڈی پی میں اضافے کے اعدادوشمار نا قابل فہم ہیں درآمدات بڑھنے کی وجہ سے معاشی شرح نمو میں اضافہ ظاہر کیا گیا ہے ملکی معاشی شرح نمو میں حقیقی اضافہ نظر نہیں آ رہا, سیلاب کے باوجود زرعی شعبہ کی پیداوار 2.89 فیصد دکھائی گئی ہے حالانکہ شدید سیلاب کے بعد زرعی شعبہ کی پیداوار میں کمی کا امکان تھا کپاس کی پیداوار میں 1.2 فیصد کمی کے باعث اہم فصلوں کی پیداوار گر چکی ہے ۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت خطے میں دہشتگردی کو فروغ دے کر اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے:پاکستان
تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ اس دوران صنعتی شعبہ کی پیداوار میں 9.38 فیصد اضافہ ہوا ہے بجلی ، گیس اور واٹر سپلائی میں 25 فیصد اضافے سے صنعتی شعبہ کی پیداوار بڑھی ہے جس کی وجہ بھاری سبسڈیز ہیں کیونکہ سبسڈیز 20 ارب روپے سے بڑھا کر 118 ارب روپے کی گئیں اسی طرح تعمیراتی شعبہ میں 21 فیصد اضافہ سیمنٹ کی پروڈکشن سے مطابقت نہیں رکھتا خدمات کے شعبہ کی پیداوار 2.35 ظاہر کی گئی ہے ۔
تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ جی ڈی پی کے نمبرز مقامی پیداوار اور تجارتی کارکردگی میں واضح فرق دکھا رہے ہیں زرعی شعبہ کی پیداوار کے باوجود فوڈ گروپ کی برآمدات 25.8 فیصد گر گئیں اس دوران فوڈ گروپ کی درآمدات میں 18.8 فیصد اضافہ ہوا ہے کپاس کی پیداوار میں 1.2 فیصد کمی ہوئی ہے، کاٹن جیننگ کی پیداوار 12 فیصد گر چکی ہیں کپاس کی ایکسپورٹس 10 فیصد تک گر چکی ہیں اس دوران درآمدی کاٹن کی وجہ سے ٹیکسٹائل کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے پاکستان سے چینی ایکسپورٹ ہونے کی بجائے امپورٹ ہونا کی بجائے شروع ہو چکی ہیں۔
ای پی بی ڈی کا کہنا ہے کہ کاروباری سرگرمیوں میں حقیقی اضافے کے بغیر گروتھ صرف کاغذوں پر نظر آئے گی آزاد کاروباری سرگرمیوں کے لیے مناسب پالیسیاں تشکیل دی جائیں پائیدار اور حقیقی معاشی شرح نمو کے لیے پرائیویٹ سیکٹر کی قیادت کا موقع دیا جائے پرائیویٹ سیکٹر کی رہنمائی میں سرمایہ کاری کا ماحول فراہم کیا جائے۔
نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر