کراچی، مین ہول سے ملنے والی لاشوں پر تشدد کے واضح شواہد، پوسٹ مارٹم مکمل

Jan 03, 2026 | 10:17:AM
کراچی، مین ہول سے ملنے والی لاشوں پر تشدد کے واضح شواہد، پوسٹ مارٹم مکمل
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز )کراچی کے علاقے مائی کولاچی روڈ کے قریب ایک مین ہول سے برآمد ہونے والی 4 لاشوں نے شہر میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔

سول سپتال میں ابتدائی پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے والی تفصیلات نے واقعے کو مزید سنگین بنا دیا ہے جبکہ پولیس واقعے کو مختلف پہلوؤں سے دیکھتے ہوئے تحقیقات کو آگے بڑھا رہی ہے۔

 پولیس سرجن کے مطابق مائی کولاچی روڈ پھاٹک کے قریب مین ہول سے ملنے والی چاروں لاشیں کئی روز پرانی ہیں اور ان پر تشدد کے واضح نشانات پائے گئے ہیں۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ایک لڑکے کی عمر تقریباً 13 سے 14 سال ہے، جس کے سر، چہرے اور گردن پر تشدد کے نشانات موجود ہیں۔ دوسرے لڑکے کی عمر تقریباً 10 سال بتائی گئی ہے، جس کی لاش گلا کٹی ہوئی حالت میں ملی۔

 اسی طرح ایک لڑکی، جس کی عمر 14 سے 15 سال کے درمیان ہے، کے سر، چہرے اور گردن پر بھی تشدد کے آثار پائے گئے ہیں، جب کہ چوتھی لاش تقریباً 40 سالہ خاتون کی ہے، جس کے سر پر شدید تشدد کے نشانات موجود ہیں۔ پولیس کے مطابق کیمیائی تجزیے کے لیے لاشوں سے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں تاکہ موت کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:افسوسناک خبر!مسافر طیارہ حادثہ کا شکار

یاد رہے کہ اس سے قبل پولیس حکام نے بتایا تھا کہ کراچی کے علاقے مائی کولاچی کے قریب ایک مین ہول سے 4 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق ابتدائی طور پر لاشوں میں 2 مرد اور 2 خواتین شامل بتائی گئیں، جن کے بارے میں اندازہ تھا کہ وہ 10 سے 15 روز پرانی ہیں۔ پولیس کے مطابق لاشیں کافی حد تک مسخ ہو چکی تھیں، جس سے شبہ ظاہر کیا گیا کہ یہ 15 سے 20 روز پرانی بھی ہو سکتی ہیں۔

 واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری موقع پر پہنچی، علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے گئے اور لاشوں کو قانونی کارروائی کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ کیماڑی پولیس کے مطابق واقعے کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ قریبی علاقوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور کیمیائی تجزیے کی حتمی رپورٹس موصول ہونے کے بعد واقعے سے متعلق مزید حقائق سامنے آئیں گے، جس کے بعد ذمہ داروں کے تعین اور گرفتاری کے لیے کارروائی کی جائے گی۔