’’گوٹمار میلہ‘‘ بھارت میں محبت کرنیوالے جوڑے کی یاد میں کھیلا جانیوالا خونی کھیل

Sep 02, 2025 | 14:18:PM
’’گوٹمار میلہ‘‘ بھارت میں محبت کرنیوالے جوڑے کی یاد میں کھیلا جانیوالا خونی کھیل
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)بھارت میں رسم و رواج  اور  عقائد کے نام پر انسانوں سے ناروا سلوک  تو عام ہے، اس سلوک  کی ایک مثال مدھیہ پردیش کے پانڈھرنا ضلع کے گاؤں میں 3  صدیوں سے  چلی آرہی خوفناک رسم ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق ریاست مدھیا پردیش کے ضلع پانڈھرنا میں  300 سالوں سے جاری  اس خونی کھیل کو گوٹمار میلے کا نام دیا گیا ہے ۔

 گوٹمار میلہ ہر سال بھارت میں کسانوں کے اگست یا ستمبر میں آنے والے پولا تہوار کے دوسرے دن لگایا جاتا ہے، جس کیلئے نہ صرف اس گاؤں بلکہ آس پاس اضلاع  سے بھی  ہزاروں لوگ  تشریف لاتے ہیں۔

میلے کے روز صبح سویرے گاؤں کا سریش کاولے نامی شخص دریائے جام کے بیچوں بیچ پلاش کا درخت جھنڈے  کے طور پر  نصب کرکے اس خونی کھیل کا آغاز کرتا ہے۔

 درخت لگانے کے بعد ناریل ، جھاڑیوں ، بار اور لال کپڑے کے ذریعے اس درخت کی پوجا کی جاتی ہے اور پھر صبح 8 سے 9 بجے اس خونی کھیل کا آغاز ہوتا ہے۔

میلے میں شامل کھلاڑی پتھر اور گوپھن کا استعمال کرتے ہوئے اس رسم کو نبھاتے ہیں، رسی سے تیار گوپھن میں پتھر رکھ کر بڑی طاقت کے ساتھ پھینکا جاتا ہے۔

ضلع  پنڈھرنا کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سندر سنگھ کنیش نے  بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ  اس میلے میں’ہر سال500 سے 600  لوگ زخمی ہوجاتے ہیں

انہوں نے مزید کہا کہ خوفناک میلے کو روکنے کیلئے متعدد بار انتظامیہ کی جانب سے کوششیں کی گئیں، تاہم ہر بار گاؤں کے لوگوں کی جانب سے اس کوشش کو ناکام  بنادیا ‘۔

 بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ خوفناک کھیل دراصل ایک محبت کرنیوالے جوڑے کی یاد میں ہر سال کھیلا جاتا ہے، یہ سلسلہ تقریباً 300 سالوں سے جاری ہے ۔

بھارتی میڈیا کے مطابق صدیوں پہلے  پنڈھرنا گاؤں کا لڑکا ساور گاؤں کی لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوگیا تھا لیکن لڑکی کے اہل خانہ اس لڑکے سے شادی کیلئے رضامند نہ ہوسکے۔

جس کے بعد لڑکےنے ساور گاؤں کی لڑکی کو بھگا کر اپنے گاؤں  لانے کی کوشش کی لیکن اس بات کا علم  لڑکی کے گھر والوں کو ہوگیا۔

 یہ بھی پڑھیں:بھارتی اداکارہ کرشمہ کپور کو ابھیشک بچن سے منگنی ٹوٹنے کا آج بھی صدمہ

 بھارتی میڈیا کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ جس روز یہ جوڑا بھاگ کر   جام ندی پار کررہا تھا تب ہی لڑکی کے گھر والے وہاں پہنچ گئے ،انہوں نے لڑکے  پر پتھر برسانا شروع کردیے۔

دوسری جانب لڑکے کے گھر والے بھی  اس جگہ پہنچ گئے  جس کے بعد انہوں نے بھی  اپنے بیٹے کو بچانے کیلئے ساور گاؤں کے لوگوں پر پتھر برسانا شروع کردیے تاہم اس دوران لڑکا اور لڑکی ہلاک ہوگئے۔