تھیٹر پر مسلسل تنقید کیوں؟ جب معمر رانا سٹیج پر آئے

تحریر: زین مدنی حسینی

Nov 02, 2025 | 21:13:PM
تھیٹر پر مسلسل تنقید کیوں؟ جب معمر رانا سٹیج پر آئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

اداکاری صرف کیمرے کے سامنے بولنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مسلسل ارتقاء کا عمل ہے۔ ہر اداکار کے لیے اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنے فن کو نئے زاویوں سے آزمائے اور ناظرین کے ساتھ براہِ راست جُڑنے کی جرأت رکھے۔ یہی جرأت اس وقت فلمی اداکار معمر رانا نے دکھائی ہے، جنہوں نے حال ہی میں محفل تھیٹر لاہور میں پیش کیے جانے والے مصنف و ہدایتکار نسیم وکی کے سٹیج  ڈرامے "یہ چوڑیاں" میں سٹیج پر جلوہ گر ہو کر سب کو حیران کر دیا۔
تاہم اس فنکارانہ قدم پر جہاں شائقینِ تھیٹر نے ان کے جذبے کو سراہا، وہیں سوشل میڈیا پر تنقید کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ کچھ حلقوں نے سوال اٹھایا کہ ایک سپر سٹار فلمی اداکار کو تھیٹر کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ یہ رویہ اس بات کا عکاس ہے کہ ہم تھیٹر کی اصل اہمیت کو بھول چکے ہیں۔
حالانکہ اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تو پاکستان کے کئی لیجنڈ فنکاروں نے تھیٹر کے پلیٹ فارم سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا یا وقتاً فوقتاً سٹیج پر پرفارم کیا۔
سلطان راہی، رنگیلا، جاوید شیخ، ریمبو، معین اختر، شکیل، خیام سرحدی، افضال احمد سمیت درجنوں بڑے نام ایسے ہیں جنہوں نے تھیٹر کے سخت مگر سچے ماحول میں اپنی صلاحیتوں کو تراشا۔
تھیٹر ایک ایسا فن ہے جو اداکار کو فن کی اصل روح سے روشناس کراتا ہے۔ یہاں کوئی کٹ، کوئی ری ٹیک نہیں سب کچھ لمحہ بہ لمحہ ناظرین کے سامنے ہوتا ہے۔ یہ سٹیج پر کھڑے ہونے والے اداکار کے اعتماد، جذبے اور فن پر حقیقی امتحان ہوتا ہے۔
اس پس منظر میں اگر معمر رانا نے تھیٹر کا انتخاب کیا ہے تو یہ ان کے فن سے عشق، جرأت اور عزم کی علامت ہے، نہ کہ زوال کی۔ دنیا بھر کے بڑے اداکار — برطانیہ کے لارنس اولیویر سے لے کر بھارت کے نصیر الدین شاہ تک — تھیٹر کو اپنی فنی تربیت کا سرچشمہ مانتے ہیں۔
پاکستان میں بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تھیٹر کو پھر سے اس کا اصل وقار دلائیں۔ وہی تھیٹر جو کبھی ہمارے فن، زبان اور ثقافت کی پہچان تھا۔
تھیٹر کے نامور اداکار مصنف اور ہدایتکار نسیم وکی آج اگر ایک فلمی ہیرو معمررانا کو سٹیج پر لیکر آئیں ہیں اور معمر رانا نے بھی آ کر اپنے فن کو براہِ راست عوام کے سامنے پیش کیا ہے تو اسے تنقید نہیں، تحسین ملنی چاہیے۔
محفل تھیٹر میں پیش کیا جانے والا ڈراما "یہ چوڑیاں" محض ایک تھیٹر پلے نہیں، بلکہ یہ اس پیغام کی تجدید ہے کہ سٹیج زندہ ہے، فن زندہ ہے، اور وہ اداکار بھی زندہ ہیں جو اپنی پہچان کو نئی جہتوں میں تلاش کرنے سے نہیں گھبراتے۔

دیگر کیٹیگریز: بلاگ
ٹیگز: