سوڈان: خانہ جنگی میں شدت، بڑی تعداد میں اجتماعی پھانسیاں دی جانےلگیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)سوڈان میں خانہ جنگی اور شہریوں کا قتل عام تھم نہ سکا، سوڈانی فوج اور ریپڈ اسپورٹ فورس کے درمیان مغربی کردفان میں جھڑپیں جاری ہیں۔
بین الاقوامی خبر ایجنسیوں کے مطابق سوڈان میں جاری خانہ جنگی شدت اختیار کرگئی ہے، جبکہ مغربی دارفور کے شہر الفاشر میں انسانی المیہ سنگین صورت اختیار کرچکا ہے۔
سوڈانی فوج اور نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورس (RSF) کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں، جن کے نتیجے میں سیکڑوں شہری مارے گئے اور ہزاروں گھرانے نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، ریپڈ سپورٹ فورس نے الفاشر شہر پر مکمل قبضہ کرلیا ہے، جس کے بعد وہاں بڑے پیمانے پر اجتماعی پھانسیاں، نسلی بنیادوں پر قتل عام اور شہریوں کی گرفتاریوں کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔
مزید پڑھیں:کینیڈین وزیر اعظم نے ٹیرف مخالف اشتہار پر امریکی صدر سے معافی مانگ لی
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بتایا ہے کہ درجنوں نہیں بلکہ سیکڑوں بے گناہ شہری اور غیر مسلح افراد کو قتل کیا گیا، جن میں سیکڑوں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
یہ حملے دانستہ اور منظم نسل کشی کا حصہ ہیں جسے عالمی قوانین کے تحت جنگی جرم قرار دیا گیا ہے۔
الفاشر میں ہونے والی تباہی کے بعد 62 ہزار سے زائد افراد صرف چار دنوں میں شہر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔
یہ متاثرہ خاندان شمالی سوڈان کے علاقے الضحبہ میں پہنچے ہیں، جہاں وہ انتہائی ابتر حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق متاثرین کو خوراک، پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید کمی کا سامنا ہے۔