الزامات سے بریت تک — عابد باکسر اور انصاف کی بحالی

 ملک  اشرف 

May 02, 2026 | 18:03:PM
الزامات سے بریت تک — عابد باکسر اور انصاف کی بحالی
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24news
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ریاستی نظام میں سب سے بڑی آزمائش صرف جرم ثابت کرنا نہیں بلکہ بے گناہی کو ثابت ہونے دینا بھی ہے۔ حالیہ عدالتی فیصلے میں سابق پولیس انسپکٹر عابد باکسر کے خلاف درج تمام مقدمات کا عدم ثبوت کی بنیاد پر خارج ہونا اسی حقیقت کی ایک واضح مثال ہے کہ الزام لگانا آسان، مگر ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے۔
ماڈل ٹاؤن کچہری کی عدالت نے نہ صرف عابد باکسر کو بری کیا بلکہ یہ بھی واضح کر دیا کہ پولیس متعدد مواقع کے باوجود کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کر سکی۔ یہ محض ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ قانون کی بالادستی کی جیت ہے، جہاں فیصلہ بیانیوں نہیں بلکہ ثبوتوں پر ہوتا ہے۔
دلچسپ اور اہم پہلو یہ ہے کہ جن الزامات کو ابتدا میں انتہائی سنگین رنگ دیا گیا، ان میں سے دہشت گردی کی دفعات پہلے ہی عدالت ختم کر چکی تھی۔ اس کے بعد بھی جب مقدمہ عام عدالت میں آیا تو وہاں بھی ثبوت پیش نہ کیے جا سکے۔ یوں ایک ایک کرکے الزامات کی بنیاد کمزور ہوتی چلی گئی اور آخرکار مکمل طور پر ختم ہو گئی۔
عابد باکسر کے حوالے سے ان کے ساتھیوں اور جاننے والوں کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے دور میں ایک نڈر، متحرک اور فیلڈ میں موجود رہنے والے افسر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ایسے افسران جو خطرناک حالات میں خود آگے بڑھ کر کارروائی کرتے ہیں، عموماً تنازعات کا بھی سامنا کرتے ہیں، مگر یہی وہ افسر ہوتے ہیں جو جرائم پیشہ عناصر کے لیے حقیقی چیلنج بن جاتے ہیں۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے نظام میں بعض اوقات ایسے افسران جو سخت اور غیر سمجھوتہ رویہ رکھتے ہیں، وہی بعد میں مقدمات اور الزامات کی زد میں آ جاتے ہیں۔ مگر عدالت کا حالیہ فیصلہ یہ واضح کرتا ہے کہ اگر شواہد نہ ہوں تو الزام اپنی اہمیت کھو دیتا ہے۔اس کیس میں ایک اور اہم پہلو سامنے آیا کہ انویسٹی گیشن پولیس خود بھی شواہد نہ ہونے کی بنیاد پر دو مقدمات خارج کر چکی تھی۔ اس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ مقدمات کی بنیاد کمزور تھی اور وقت کے ساتھ ساتھ حقیقت واضح ہوتی گئی۔
عابد باکسر کی طرزِ زندگی کے بارے میں بھی یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ایک سادہ مزاج، پیشہ ورانہ طور پر سخت مگر ذاتی طور پر ملنسار شخصیت رکھتے ہیں، جو اپنے کام کو ترجیح دیتے ہیں اور میدان میں رہ کر مسائل حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ایسے افسران اداروں کے لیے ایک اثاثہ سمجھے جاتے ہیں، بشرطیکہ ان کی کارکردگی کو شواہد اور میرٹ کے مطابق پرکھا جائے۔
عدالتی فیصلے کے بعد ایک بنیادی سوال ضرور اٹھتا ہے کہ اگر مقدمات میں شواہد موجود ہی نہیں تھے تو پھر ایسے سنگین الزامات لگانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ یہ سوال صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے نظام کا ہے، جس کا جواب تلاش کرنا ضروری ہے تاکہ آئندہ کسی بھی شخص کو بلاجواز قانونی دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اختتامیہ یہی ہے کہ عابد باکسر کا کیس ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ سچ وقتی طور پر دب تو سکتا ہے مگر ختم نہیں ہوتا۔ جب عدالت کے سامنے شواہد رکھے جاتے ہیں تو حقیقت خود اپنا راستہ بنا لیتی ہے۔
یہ فیصلہ نہ صرف ایک افسر کی بریت ہے بلکہ اس اصول کی جیت بھی ہے کہ
“قانون میں الزام نہیں، ثبوت بولتے ہیں