وفاقی وزیر احسن اقبال کا ادارہ شماریات کا دورہ،اُڑان پاکستان ڈیٹا سینٹر کی پیشرفت کا جائزہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(وقاص عظیم ) وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے ادارہ شماریات پاکستان (پی بی ایس) کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے 2023 کی مردم شماری کے اعداد و شمار، ان کی عوامی تشہیر کے منصوبے اور "اُڑان پاکستان" ڈیٹا سینٹر کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ 2023 کی ڈیجیٹل مردم شماری ایک تاریخی کامیابی ہے، جسے تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاقِ رائے سے پذیرائی ملی، انہوں نے کہا کہ مردم شماری پر اعتماد بحال ہوا ہے مگر اس کے نتائج نے کئی اہم قومی چیلنجز کو بھی نمایاں کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 30 سال بعد ایک بار پھر آبادی میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے "ہم اُن ممالک میں شامل ہو چکے ہیں جہاں سالانہ شرحِ افزائش آبادی 2.5 فیصد سے زیادہ ہے " انہوں نے صوبوں پر زور دیا کہ وہ اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات کریں۔
احسن اقبال نے کہا کہ ہر سطح پر مردم شماری کے اعداد و شمار کو مؤثر اور نتیجہ خیز طریقے سے استعمال کرنا ہوگا تاکہ پالیسی سازی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں،انہوں نے کہا کہ درست فیصلہ سازی کا واحد راستہ اعداد و شمار پر مبنی حکمرانی ہے۔
انہوں نے تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ملک 90 فیصد شرح خواندگی کے بغیر ترقی یافتہ نہیں بن سکا جبکہ پاکستان میں یہ شرح صرف 60 فیصد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مردم شماری کے ذریعے یہ جانچ ممکن ہوئی ہے کہ کون سے اضلاع میں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور کہاں بچے سکولوں سے باہر ہیں ،"مردم شماری کے مطابق پاکستان میں 2 کروڑ 50 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔"
وفاقی وزیر نے کہا کہ تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں اور انسانی وسائل ہی اصل قومی سرمایہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے فائیو ایز (برآمدات، توانائی، ماحول، تعلیم، اور ای-گورننس) کے ہدف کی کامیابی بھی مستند اعداد و شمار سے مشروط ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ مردم شماری کے اعداد و شمار کی روشنی میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کی منصفانہ تقسیم کی جائے تاکہ ترقی کے میدان میں عوامی نمائندگان کے درمیان صحت مند مقابلے کی فضا پیدا ہو۔
احسن اقبال نے کہا کہ توانائی، درآمدات، خوراک کی فراہمی اور روزگار جیسے مسائل کے حل میں اعداد و شمار ایندھن کا کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محروم علاقوں کی شناخت، نوجوانوں کے روزگار اور مہارت سازی کے لیے بھی ڈیٹا کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پی بی ایس کا اگلا ہدف یہ ہونا چاہیے کہ دستیاب ڈیٹا کو مفید اور قابلِ استعمال معلوماتی مصنوعات میں تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار کو نجی شعبے، تحقیقاتی اداروں، چیمبرز آف کامرس اور جامعات کی ضروریات کے مطابق اکٹھا کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جدید معیشت میں فیصلہ سازی کا ایندھن اعداد و شمار ہیں۔ ہمیں ایسے اعداد و شمار درکار ہیں جو مقصدیت کے حامل ہوں۔ سائنسی ترقی کے لیے بھی ڈیجیٹل اعداد و شمار بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کی معاشی بحالی کو سراہا جا رہا ہے اور ہمارے معاشی اشاریے دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔ انہوں نے حکومت کے اس عزم کو دہرایا کہ 2035 تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنایا جائے گا،انہوں نے کہا کہ "اُڑان پاکستان ڈیٹا سینٹر جدید اور شفاف حکمرانی کی بنیاد فراہم کر رہا ہے۔"
اس موقع پر چیف شماریات نعیم الزفر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ادارہ شماریات نے حال ہی میں عالمی معیار کے مطابق ایک جدید ٹائیر اڑان پاکستان ڈیٹا سینٹر قائم کیا ہے جس کا مرکزی مقام اسلام آباد میں جبکہ مکمل فعال ڈیزاسٹر ریکوری سائٹ لاہور میں قائم کی گئی ہے۔
یہ مرکز جدید ورچوئل نظام پر مبنی ہے، جو آئندہ کئی برسوں کے لیے اعداد و شمار کی پروسیسنگ اور محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مرکز میں اعلیٰ معیار کے سرور نصب کیے گئے ہیں جو بھاری کمپیوٹیشنل اور ڈیجیٹل کاموں کی انجام دہی کے لیے موزوں ہیں۔ اس میں 700 ٹیرا بائٹ سے زائد ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے، جس میں 512 ٹیرا بائٹ کی مرکزی اسٹوریج اور 184 ٹیرا بائٹ کا بیک اپ سسٹم شامل ہے تاکہ ڈیٹا کے تحفظ اور کاروباری تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: دشمن کی ہر سازش ناکام بنانے کا عزم محرم الحرام میں امن و امان،حکومت و علما کی اولین ترجیح