فیول کی ذخیرہ اندوزی؛ قبرستان میں چار سو ایل پی جی سلنڈر چھپانے والے گروہ کو پولیس نے پکڑ لیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) ایران جنگ نے ایک طرف تو دنیا کے بہت سے انسانوں کو تکلیفوں میں مبتلا کیا، دوسرے طرف بہت سے بے حسن طالع آزماؤں کو اشیا کی قلت سے فائدہ اٹھا کر بلیک مارکیٹنگ کرنے اور پیسہ بنانے کی راہ دکھا دی۔ بھارت میں ایل پی جی کی شدید قلت کے دوران گیس سلنڈروں کی بڑی تعداد قبرستان کے اندر چھپا کر رکھنے والے ذخیرہ اندوز کو پولیس نے پکڑ لیا۔
بھارت کی ریاست تلنگانہ کے کیپیٹل سٹی حیدرآباد میں پولیس نے ایک قبرستان میں قبروں میں چھپائے گئے سینکڑوں ایل پی جی سلینڈر بر آمد کرلیے۔ یہ گیس سلنڈر چھپانے والوں اور شہر کے دوسرے علاقوں میں ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک میں فروخت کرنے والے دس افراد کو پولیس نے پکڑ کر حوالات میں بند کر دیا ہے۔
بھارتی خمیڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران میں جاری جنگ کے اثرات کی وجہ سے بھارت میں ایل پی جی کی شدید قلت چل رہی ہے۔ طالع آزما لوگ ایل پی جی کو بلیک مارکیٹ میں زیادہ قیمت پر فروخت کر رہے ہیں۔
ایران میں کشیدگی کے سبب شپنگ متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں گیس کی سپلائی کم ہوئی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
بھارت کی وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس کی ایک سینئر عہدیدار سجاتا شرما کے مطابق صرف گزشتہ روز ملک بھر میں تقریباً 2,600 چھاپے مارے گئے اور تقریباً 700 ایل پی جی سلنڈر ضبط کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: خلیجی ممالک کا آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرکے تیل کی نئی پائپ لائن ڈالنے پر غور
سجاتا شرما نے مزید بتایا کہ حیدرآباد میں ایک قبرستان کے اندر سے تقریباً 400 سلنڈر ایک ہی مقام سے برآمد ہوئے اور پولیس نے اس واقعے میں دس افراد کو حراست میں لے لیا۔
حیدر آباد پولیس کے حکام نے بتایا کہ قبرستان کو ایل پی جی کا ڈمپ یارڈ بنا ڈالنے والے لوگ کمرشل اور گھریلو سلنڈرز کو تین گنا زیادہ قیمت پر فروخت کر رہے تھے۔ ایک کمرشل سلنڈر جس کی اصل قیمت تقریباً 2,100 بھارتی روپے ہے اسے چھ ہزار روپے تک میں بیچا جا رہا تھا۔ ضبط کیے گئے سلنڈرز اور استعمال شدہ گاڑیوں کی مجموعی مالیت تقریباً 22 لاکھ بھارتی روپے بنتی ہے۔
بھارت دنیا میں ایل پی جی کا دوسرا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے اور اپنی تقریباً 60 فیصد ضرورت درآمد شدہ ایل پی جی سے پوری کرتا ہے جو زیادہ تر مشرقِ وسطیٰ سے آتی ہے۔