علی امین اور بیرسٹر گوہر کو عمران خان کی رہائی کا معاملہ دے دیں تو بانی ایک ماہ میں باہر ہونگے، شیر افضل
حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں ،عمران خان جس دن کہیں گے میں کمپرومائز کیلئے تیار ہوں اس دن رہا ہو جائینگے، سینیٹر ہمایوں مہمند
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)تحریک انصاف کے سابق رہنما شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ علی امین گنڈا پور اور بیرسٹر گوہر کو اگر پارٹی عمران خان کی رہائی کا معاملہ دے دیں تو عمران خان ایک ماہ میں باہر ہوں گے۔
24نیوز کے پروگرام نسیم زہرا @پاکستان میں گفتگو ہوئےکرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ سہیل آفریدی آئے ہی اس لیے ہیں کہ وہ احتجاج کریں گے ،جب وزیر اعلی ٰکے پی کو لایا گیا تھا تب ہی 24 نومبر کو احتجاج کا فیصلہ ہو گیا تھا، اب اگر یہ کہیں اور جلسہ کرنے کا اعلان کرتے ہیں تو سمجھ لیں کہ یہ اسلام آبادجلسہ کا متبادل ہے ۔
ان کاکہناتھا کہ مئی میں بیرسٹر گوہر کو آفر کی گئی تھی کہ بشریٰ بی بی کو رہا کر دیتے ہیں اگر وہ باہر آکر جلسے جلوس نہیں کریں گی،شیر افضل مروت کاکہناتھا کہ اسٹیبلشمنٹ کی خواہش ہے کہ موجودہ نظام کو مکمل ہونے دیں لیکن عمران خان اس پر تیار نہیں۔
پروگرام میں بات کرتے سینیٹر ڈاکٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ پی ٹی آئی نے کبھی بندوق کی سیاست نہیں کی ، حکومت کے پاس کوئی بڑا اختیار نہیں ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان جس دن کہیں گے کہ میں کمپرومائز کیلئے تیار ہوں اس دن رہا ہو جائیں گے۔
پروگرام کے دوسرے حصہ میں بات کرتے سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری نے کہا کہ بھارت اور امریکا کے درمیان دراڑ اس لیے آئی ہے کیونکہ مودی نے پاک بھارت جنگ کی سیز فائر کا کریڈٹ امریکا کو نہیں دیا، انہوں نے مزید کہا کہ چین نے کبھی اعتراض نہیں کیا کہ پاکستان امریکا کیساتھ تعلقات اچھے نہ رکھے۔ پاک افغان مذاکرات پر بات کرتے ہوئے اعزاز چودھری نے کہا کہ افغانستان اگر تحریری ضمانت دے بھی دے تب بھی پاکستان کو چوکنا رہنا ہو گا ہوکیونکہ ماضی میں بھی افغان حکومت نے کبھی وعدوں کی پاسداری نہیں کی۔