سابق وفاقی وزیرگوہراعجاز نے بجٹ تجاویز پیش کردیں، ٹیکسوں میں بڑی کمی کا مطالبہ

Jun 01, 2026 | 09:27:AM
سابق وفاقی وزیرگوہراعجاز نے بجٹ تجاویز پیش کردیں، ٹیکسوں میں بڑی کمی کا مطالبہ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(وقاص عظیم)سابق نگراں وفاقی وزیر اور چیئرمین اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ گوہر اعجاز نے آئندہ مالی سال کے لیے شیڈو بجٹ پیش کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ ٹیکسوں میں نمایاں کمی، سرکاری اخراجات میں کٹوتی اور جامع مالیاتی اصلاحات کے ذریعے معیشت کو بحال کیا جائے۔

 گوہر اعجاز نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال جون میں بجٹ منظوری کی محض ایک رسم ادا کی جاتی ہے، جبکہ بجٹ چند وزارتوں کی محدود مشاورت سے تیار کیا جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو بجٹ کا جائزہ لینے کے لیے دو ہفتوں سے بھی کم وقت دیا جاتا ہے اور کاروباری برادری کو بجٹ کی منظوری کے بعد اس سے آگاہ کیا جاتا ہے، حالانکہ معیشت کا دارومدار اسی طبقے پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری کا عمل رک چکا ہے اور گزشتہ تین برسوں کے دوران اوسط معاشی شرح نمو صرف دو فیصد رہی ہے، جو معاشی استحکام نہیں بلکہ مسلسل تنزلی کی علامت ہے۔

گوہر اعجاز کے مطابق گزشتہ دس برسوں میں قومی قرضہ 19 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 80 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ حکومتی اخراجات کا تقریباً 60 فیصد حصہ سود کی ادائیگیوں پر خرچ ہو رہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ٹیکس نظام ٹیکس دہندگان کو سزا دے رہا ہے، جبکہ غیر دستاویزی معیشت اب بھی ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ انکم ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ شرح 35 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد، کارپوریٹ ٹیکس 29 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد اور سیلز ٹیکس آئندہ تین برسوں میں 18 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد کیا جائے، انہوں نے نان فائلرز کی کیٹیگری ختم کرنے اور رسمی معیشت کو مزید ٹیکسوں کے بجائے ریلیف دینے کا بھی مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:ڈیلیوری سروس بند! خلاف ورزی کرنے پر رائیڈرز کو سزا

شیڈو بجٹ میں ایف بی آر کے لیے 14 ہزار 500 ارب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کرنے اور حکومتی اخراجات میں 3 سے 4 ٹریلین روپے تک کمی لانے کی سفارش کی گئی ہے، گوہر اعجاز نے مہنگے قرضوں کی واپسی، نئے سرکاری اداروں کے قیام پر پابندی، تحلیل شدہ اداروں کی صوبوں کو منتقلی اور سنگل ٹریژری اکاؤنٹس کے دائرہ کار میں توسیع کی تجاویز بھی پیش کیں۔

انہوں نے کہا کہ نئے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کی تشکیل تک مؤثر مالیاتی اصلاحات ممکن نہیں، اس لیے قومی اقتصادی کونسل اور مشترکہ مفادات کونسل کو فعال بنایا جانا چاہیے۔

گوہر اعجاز نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شیڈو بجٹ میں پیش کی گئی تجاویز کو سنجیدگی سے سنا جائے، ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے پیش کردہ اعداد و شمار غیر حقیقی ہیں تو انہیں حقائق کی بنیاد پر چیلنج کیا جائے، تاہم کاروباری برادری غیر مشاورتی فیصلوں کو مزید قبول نہیں کر سکتی۔