بلوچستان کے سرحدی اضلاع میں ایران کیلئے ویزا ریجیم کا رسمی آغاز ہو گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) بلوچستان کی صوبائی حکومت کی ہدایت پر ایران جانے کیلئے راہداری سہولت بند کرنے کے بعد آج یکم اپریل کو تفتان بارڈر پر ویزا ریجیم کا رسمی افتتاح کر دیا ہے۔
پاکستان ایران سرحد پر "راہداری" دستاویز کے ذریعے آمد و رفت فوری طور پر معطل کر دی گئی ہے۔
صوبائی حکومت نے 15 مارچ کو راہداری جاری کرنا بند کر دیا تھا۔ آج یکم اپریل سے ویزا ریجیم کا نفاذ کرنے کا رسمی افتتاح کر دیا گیا ہے۔
آج سے ایران جانے کیلئے بلوچستان کے سرحدی اضلاع کے باشندوں کے لئے بھی پاسپورٹ اور ویزا لازمی ہے۔
بلوچستان کی حکومت نے عوام سے کہا ہے کہ وہ ایران جانے کے لئے "راہداری" (عبوری اجازت نامہ) کے حصول کیلئے کوشش نہ کرنین۔ راہداری کسی کو نہیں ملے گی۔
آج ڈپٹی کمشنر چاغی کی جانب سے راہداری نظام کے خاتمہ کا باضابطہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے عوام سے حکومتی احکامات پر عملدرآمد کرنے کی ہدایت کی ہے

بلوچستان سے ایران آمدورفت کے لئے راہداری نظام کیا ہے؟
بلوچستان کے سرحدی اضلاع کے مستقل رہائشی باشندوں کے لئے ایک خصوصی سہولت موجود تھی کہ وہ کسی ویزا اور پاسپورٹ کے بغیر صرف ایک دستاویز "راہداری" پر ایران کا سفر کر سکتے تھے۔ ایران کی جانب سے بھی اس سرکاری دستاویز کو قبول کیا جاتا تھا۔ سرحدی اضلاع جیسے گوادر، کیچ، پنجگور، واشک اور چاغی کے مقامی باشندوں کو پاسپورٹ یا ویزا کے بغیر ایران جانے کی اجازت تھی۔
راہداری کے اجراء کا طریق کار
یہ اجازت نامہ ضلع کے اسسٹنٹ کمشنر یا ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے جاری کیا جاتا تھا۔
مدت اور حدود
عام طور پر یہ اجازت نامہ 15 دن کے لیے ہوتا تھا اور مقامی لوگ سال میں دو مرتبہ ایران جانے کے لئے راہداری اجازت نامہ حاصل کر سکتے تھے۔
راہداری نظام کا خاتمہ (مارچ 2026)
پاکستان نے بلوچستان کے باشندوں کی ایران آمدورفت کے لئے کئی دہائیوں سے رائج ’راہداری نظام‘ کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا ہے اور اب ایران جانے کے لیے پاسپورٹ اور ویزا کا ہونا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
15 مارچ 2026 کو حکومت کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ اب بلوچستان سے ایران کی سرحد پار کرنے کے لیے ہر شہری کے پاس ویلیڈ پاسپورٹ اور ویزا کا ہونا ضروری ہے۔
گوادر اور کئی دیگر سرحدی اضلاع کی انتظامیہ نے نئے راہداری کارڈز کا اجرا تبھی روک دیا تھا۔ چاغی میں آج ڈپٹی کمشنر نے رسمی اعلامیہ جاری کیا ہے۔
حکومت کے مطابق اس فیصلے کا مقصد سرحدی سیکیورٹی کو بہتر بنانا اور بین الاقوامی سفری کے لئے بین الاقوامی معیار پر عمل درآمد کرنا ہے۔
اہم سرحدی گزرگاہیں
بلوچستان میں ایران کے ساتھ درج ذیل اہم مقامات سے آمدورفت اور تجارت ہوتی ہے:
تفتان (ضلع چاغی)
یہ ایران آمد و رفت کے لئے استعمال ہونے والی سب سے بڑی اور تاریخی گزرگاہ ہے۔
گبد ریمدان (ضلع گوادر)
یہ ایران آنے جانے کے لئے استعمال ہونے والی دوسری اہم بین الاقوامی گزرگاہ ہے۔
پنجگور (کوہک چیدگی)
یہ ایک نئی سرحدی راہداری ہے جس کا افتتاح حال ہی میں کیا گیا ہے۔

چاغی اور تفتان بارڈر کی صورتحال
حکومتِ پاکستان کے فیصلے کے مطابق، تفتان (ضلع چاغی) سمیت ایران کے ساتھ جڑے تمام سرحدی مقامات پر "ون ڈاکومنٹ ریجیم" (صرف پاسپورٹ اور ویزا) کا اطلاق 15 مارچ 2026 سے نافذ العمل ہے۔
نئی سرحدی پالیسی اور پاسپورٹ پر مبنی سفر کا باضابطہ افتتاح 31 مارچ 2026 کو کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے آج ویزا ریجیم کے نفاذ کی خبریں دوبارہ گردش میں ہیں۔
آج یکم اپریل سے ضلع چاغی کی ضلعی انتظامیہ نے نئے راہداری کارڈز کا اجراء مکمل طور پر بند کر دیا ہے، اور اب مقامی باشندوں کو بھی سرحد پار کرنے کے لیے پاسپورٹ دکھانا لازمی ہے۔ X +2
دیگر اضلاع کی صورتحال
گوادر کی ضلعی انتظامیہ نے بھی 18 اور 19 مارچ 2026 کو باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر کے راہداری پاسز کی معطلی کی تصدیق کر دی تھی۔
س کے ساتھ ہی، حکومت نے پنجگور کے علاقے کوہک چیدگی میں ایک نیا تجارتی راہداری (Border Corridor) بھی کھولا ہے تاکہ قانونی تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں بارشوں سے سیلاب، مسافر وین اور ٹرک برساتی نالے کے سیلاب میں بہہ گئے