عارضی جنگ بندی نہیں،خطے میں دشمنی کے خاتمے کو قبول کریں گے،عباس عراقچی
اسٹیو وٹکوف سے براہ راست پیغامات وصول کئے لیکن وہ مذاکرات نہیں بلکہ پیغامات کا تبادلہ ہے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا سے مذاکرات کرنے پر ایران کو تحفظات ہیں، ایران عارضی جنگ بندی کے بجائے پورے خطے میں دشمنی کے خاتمے کو قبول کریگا۔
غیرملکی ٹی وی کے ساتھ گفتگو میں ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اسٹیو وٹکوف سے براہ راست پیغامات وصول کئے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں مذاکرات ہورہے ہیں، جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے وہ مذاکرات نہیں بلکہ پیغامات کا تبادلہ ہے، خطے میں موجود دوستوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران میں کسی مخصوص فریق کے ساتھ مذاکرات کی خبریں درست نہیں، یہ تمام پیغامات وزارت خارجہ اور سیکیورٹی اداروں کے دائرہ کار میں آتے ہیں ، ہم نے امریکی 15 تجاویز پر کوئی جواب نہیں دیا، امریکا سے مذاکرات کرنے پر ایران کو تحفظات ہیں۔
ایرانی وزیرخارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلا ہے، آبنائے ہرمز صرف ان کے لیے بند ہے جو ہم سے جنگ کر رہے ہیں، یہ جنگ ہم نے نہیں شروع کی،ہم نے صرف اپنا دفاع کیا، ایران اپنا دفاع اچھی طرح کرنا جانتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:تکنیکی و آپریشنل وجوہات کے باعث 5پروازیں منسوخ
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران امریکی زمینی کارروائی سے خوفزدہ نہیں، ہم امریکا کی زمینی کارروائی کا انتظار کررہے ہیں، ہمیں نہیں لگتا امریکا میں زمینی کارروائی کی ہمت ہے، کسی بھی زمینی حملے کا مقابلہ کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔