دادو ؛محکمہ تعلیم کے 314 ملازمین کا بی آئی ایس پی کے ذریعے 7 کروڑ ہتھیانے کا انکشاف

May 31, 2025 | 18:21:PM
دادو ؛محکمہ تعلیم کے 314 ملازمین کا بی آئی ایس پی کے ذریعے 7 کروڑ ہتھیانے کا انکشاف
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (  کامران کورائی)دادو میں محکمہ تعلیم کے 314 ملازمین کی جانب سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے ذریعے فیملی ممبرز کے نام پر 7 کروڑ روپے وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

 یہ انکشاف اسپیشل سیکریٹری بی آئی ایس پی کی جانب سے کی گئی ایک آڈٹ رپورٹ میں ہوا  جس کے بعد محکمہ تعلیم سندھ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ آڈٹ سال 2022 اور 2023 کے دوران مکمل کی گئی تھی  جس میں دادو سمیت سندھ کے 9 اضلاع میں محکمہ تعلیم کے ملازمین کی جانب سے غیر قانونی طور پر رقوم وصول کرنے کے شواہد سامنے آئے،اس سکینڈل میں پرائمری اساتذہ، چوکیدار، اور صفائی کا عملہ (سوئیپرز) شامل ہیں جنہوں نے بی آئی ایس پی کے تحت مالی امداد اپنے یا اپنے اہل خانہ کے نام پر حاصل کی۔

اس سے قبل بھی ان ملازمین کو رقم کی واپسی کے لیے نوٹس جاری کیے گئے تھے  تاہم رقوم واپس نہ کیے جانے پر محکمہ تعلیم نے دوبارہ کارروائی کا آغاز کیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ سپیشل سیکریٹری تعلیم کی ہدایات پر ڈی او پرائمری دادو نے تمام متعلقہ ٹی اوز کو سرکاری خط جاری کر دیا ہے۔

  یہ بھی پڑھیں :  پی ٹی آئی ضلع پشاور کی تنظیم تحلیل، تمام عہدیدار فارغ