ٹرمپ کا امن منصوبہ,اسرائیل کے مجرمانہ کردار کو قانونی تحفظ؟

Sep 30, 2025 | 14:39:PM
ٹرمپ کا امن منصوبہ,اسرائیل کے مجرمانہ کردار کو قانونی تحفظ؟
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ٹرمپ کا امن منصوبہ۔۔۔ دراصل قبضے اور اسرائیل کو پاکستان سمیت دنیا بھر سے تسلیم کروانے کا منصوبہ ہے،اس سے اسرائیل کے مجرمانہ کردار کو قانونی تحفظ مل جائے گا ،تاریخ اس منصوبے کے حمایتی حکمرانوں کے سیاہ کردار کو ہمیشہ یاد رکھے گی ۔ 
کسی ریاست کا وجود تب تک ممکن نہیں جب تک اس کی حفاظت کیلئے  اسکی اپنی فوج نہ ہو  اور پورا نظام حکومت نہ ہو یہ کیسی ریاست ہوگی جسے افواج رکھنے کی اجازت نہ ہوگی بلکہ ٹرمپ  فلسطینی  اتھارٹی کے  سربراہ ہونگے اور برطانوی وزیراعظم اس کا حصہ ۔ یعنی یہاں کسی  اور کی کوئی اوقات نہ ہوگی بلکہ امریکہ اور برطانیہ کی شکل میں سارے معاملات اسرائیل کے پاس ہی رہیں گے ۔ مزید برآں برطانیہ وہی ملک ہے جس نے زائونسٹ یہودیوں کے ساتھ ملکر اسرائیل کی شکل میں ایک ناسور تشکیل دیا جس سے مسلم امہ کا خون آج بھی رس رہا ہے ۔
مکمل قبضے کے بعد اسکا حال بھی وہی ہوگا جو ماضی میں فلسطینی اتھارٹی کا ہوا،65 ہزار سے زائد فلسطینیوں کا قاتل نیتن یاہو اور اس کے انسانیت سوز مظالم  کو لیگل کور مل جائے گا۔

امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو امن منصوبہ فلسطین اور غزہ کے لیے پیش کیا ہے، وہ بظاہر ’’امن‘‘ کے نام پر مگر حقیقت میں فلسطین پر مکمل قبضے کی دستاویز ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے اسرائیل کو مزید طاقتور اور فلسطینی عوام کو مزید غلام بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

                                    منصوبے کی اہم شقیں اور نقصانات

1. امریکی نگرانی کا ادارہ
اس منصوبے کے تحت ایک ایسا ادارہ بنایا جائے گا جس کا سربراہ ٹرمپ یا امریکی نمائندہ ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ فلسطین کے مستقبل پر براہِ راست امریکہ کا قبضہ ہوگا۔ اگر سربراہ ہی امریکی ہے تو پھر یہ ’’امن منصوبہ‘‘ نہیں بلکہ امریکی آقا کے غلامی کا نیا نظام ہے۔

2. حماس کو ہتھیار ڈالنے کی شرط
منصوبے کے مطابق حماس کے مجاہدین کو ہتھیار ڈالنے ہوں گے۔ یہ دراصل فلسطینی مزاحمت کو ’’دہشت گردی‘‘ قرار دینا ہے، حالانکہ یہ بین الاقوامی قانون کے مطابق جائز آزادی کی جدوجہد ہے۔ اگر حماس ہتھیار ڈال دے گی تو اسرائیل ان کے خلاف مزید آسانی سے کارروائی کرے گا، گرفتاریاں کرے گا، قتل کرے گا اور انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دے گا۔

3. غزہ کو ’’دہشت گردی سے پاک‘‘ کرنے کا مطالبہ
یہ شق دراصل فلسطینیوں کی جائز قربانیوں کو دہشت گردی کہنا ہے۔ اس کے ذریعے اسرائیل کے ظلم کو ’’قانونی‘‘ اور فلسطین کی مزاحمت کو ’’جرم‘‘ ثابت کیا جا رہا ہے۔ یہ نہ صرف ناقابلِ قبول ہے بلکہ شہداء اور مجاہدین کی قربانیوں کی توہین بھی ہے۔

4. فلسطین کا مزید ٹکڑے ہونا
اس منصوبے کے نتیجے میں اسرائیل کو مزید زمین ملے گی اور فلسطینی ریاست مزید سکڑ جائے گی۔ یروشلم کو اسرائیل کا ’’غیر منقسم دارالحکومت‘‘ قرار دینا اس منصوبے کا سب سے بڑا ظلم ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ اسلامی ممالک کے حکمرانوں نے اس منصوبے کی حمایت کی ہے۔ یہ رویہ دراصل امریکی غلامی اور اسرائیل نوازی کا ثبوت ہے۔یہ حکمران اپنی کرسی بچانے کے لیے امتِ مسلمہ کا سودا کر رہے ہیں۔یہ فلسطینی خون کو سستا کر کے امریکہ اور اسرائیل کی چاپلوسی کر رہے ہیں۔
یہ حماس اور دیگر مزاحمتی تنظیموں کو تنہا چھوڑ کر ظالم کے ساتھ کھڑے ہو رہے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف شرمناک ہے بلکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد اور غیرت پر کاری ضرب ہے۔

یہ اسرائیل کو تحفظ دینے انکے مجرمانہ کاروائیوں کو تحفظ دینے اور اسے بچوں کے لہو سے بے گناہوں کے لہوں سے صاف کرنے کی کوشش کا منصوبہ ہیں نہ کہ امن کا منصوبہ 
یہ منصوبہ امن نہیں بلکہ قبضے کا منصوبہ ہے۔ اس کے ذریعےفلسطین کی آزادی کی جدوجہد کو ختم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔
اسرائیل کو مزید طاقتور بنایا جا رہا ہے۔
امریکہ کو براہِ راست فلسطین کا مالک و مختار بنا دیا جا رہا ہے۔ مسلم حکمران امریکی غلامی میں اپنی آخرت برباد کر رہے ہیں۔
لہٰذا ضروری ہے کہ عوام اس منصوبے کے خلاف آواز بلند کریں، اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی غلامانہ پالیسیوں کی مذمت کریں، اور دنیا کو یہ بتائیں کہ فلسطینی مزاحمت دہشت گردی نہیں بلکہ جائز اور مقدس جدوجہد ہے۔
✊ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم فلسطین کے حق میں کھڑے ہوں، ورنہ تاریخ ہمیں بزدلی اور غفلت کے ساتھ یاد کرے گی۔

(Contributed)