بھارت پاکستان کے خلاف گمراہ کن مہم بند کرے:سابق صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان کا انتباہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز) آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان نے بھارت کی جانب سے پاکستان کے اسٹریٹجک پروگرام کے خلاف جاری جھوٹے پراپیگنڈے کو بے بنیاد، شر انگیز اور پاکستان اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات سے پریشانی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
ایک انگریزی نیوز نیٹ ورک کو دیئے گئے تفصیلی انٹرویو میں سردار مسعود خان نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات گزشتہ سات دہائیوں میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، تاہم موجودہ مرحلہ باہمی احترام، علاقائی تعاون اور مشترکہ مفادات پر مبنی ایک نئے تزویراتی تعلق کی بنیاد فراہم کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ مشکلات کے باوجود اپنے مفادات کو از سرِ نو ہم آہنگ کیا ہے۔ آج امریکہ اپنی پالیسیوں میں توازن لا کر بھارت اور پاکستان دونوں کے ساتھ تعلقات کو نئی جہت دے رہا ہے جو ایک قابل تحسین پیشرفت ہے۔ انہوں نے مئی 2025 کی پاک-بھارت جنگ کے بعد کی پیش رفت اور امریکہ کی ثالثی و جنگ بندی کی کوششوں کو فیصلہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران پاکستان کا رویہ ذمہ دارانہ اور تدبر پر مبنی رہا، جسے امریکہ میں بھی سراہا گیا ہے۔ ہم نے بھی امریکہ کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا اور ان کا خیر مقدم کیا۔ سردار مسعود خان نے صدر ٹرمپ اور آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی غیر ملکی فوجی سربراہ کا وائٹ ہاؤس میں خیر مقدم، پاک-امریکہ تعلقات میں گرمجوشی اور باہمی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے بھارت کی حالیہ منفی مہم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی کی جانب سے یہ جھوٹا تاثر پھیلایا جا رہا ہے کہ پاکستان امریکہ کو نشانہ بنانے کے لیے بین البرِاعظمی بیلسٹک میزائل تیار کر رہا ہے، جو سراسر جھوٹ، فریب اور ایک گمراہ کن بیانیہ ہے۔ یہ بے بنیاد دعوے بھارت نواز تھنک ٹینکس کے ذریعے امریکی پالیسی سازوں کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔ پاکستان کا میزائل پروگرام دفاعی نوعیت کا ہے اور صرف بھارت تک محدود ہے۔ ہمارے میزائل کا ہدف اگر کوئی ہوسکتا ہے تو وہ انڈمان، نِکوبار، ماریشس اور مڈغاسکر جیسے بھارتی اڈے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصل میں بھارت کے پاس ایسی میزائل صلاحیت موجود ہے جس کی کوئی علاقائی ضرورت یا توجیح نہیں پیش کی جا سکتی، جیسے اگنی-5 اور اگنی-6 میزائل، جن کی رینج 8,000 سے 16,000 کلومیٹر تک ہے۔ اصل بین البرِاعظمی میزائل بھارت کے پاس ہیں، لیکن الزام پاکستان پر لگایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مغربی میڈیا اور بھارت نواز رسائل و جرائد میں شائع ہونے والی ان رپورٹس کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایک چھوٹا مگر بااثر گروہ امریکی پالیسی سازی کو گمراہ کرنے کے لیے مسلسل جھوٹی معلومات پھیلا رہا ہے۔ یہ پروپیگنڈا حقائق اور منطق کے منافی ہے اور پاکستان کو ایک ذمہ دار جوہری ریاست کے طور پر تسلیم کیے جانے پر بھارت کی بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتا ہے۔
سردار مسعود خان نے بھارت کے خطرناک جوہری تاریخ پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ 2022 میں ایک براہموس میزائل کا حادثاتی طور پر پاکستان میں گرنا اور بھارت میں جوہری مواد کی چوری و اسمگلنگ کے کئی واقعات کوئی مفروضہ نہیں بلکہ حقیقی خطرات ہیں۔ بھارت کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم، اس کی انتہا پسند پالیسیوں اور خطے میں جارحانہ طرزِ عمل کے تناظر میں دنیا کے لئے ایک خطرہ بنتا جارہا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان کو امریکہ کے لیے خطرہ بنا کر پیش کرنا سراسر بے بنیاد ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ امریکہ میں پاکستانی نژاد شہریوں کی ایک بڑی، پُرامن اور مثبت کردار ادا کرنے والی کمیونٹی موجود ہے۔ پاکستان کا امریکہ کو نشانہ بنانا ایک بے تُکا اور من گھڑت دعویٰ ہے۔
سردار مسعود خان نے اخر میں کہا کہ موجودہ علاقائی صورتِ حال سے پاکستان کو عسکری، معاشی اور تجارتی شعبوں میں فائدہ ہو رہا ہے۔ ہاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت اور بالغ نظری پر مبنی سفارت کاری کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، جبکہ بھارت کی اشتعال انگیزی اور جھوٹ پر مبنی مہم نے اسے دنیا میں تنہا کر دیا ہے۔ یہ انٹرویو سفارتی، تعلیمی اور پالیسی حلقوں میں معلوماتی، متوازن اور قومی موقف کی مؤثر ترجمانی کے طور پر سراہا جا رہا ہے۔ سردار مسعود خان نے حکومتِ پاکستان پر زور دیا کہ وہ بھارتی جھوٹ کا بھرپور مقابلہ کرے اور عالمی سطح پر سچ پر مبنی بیانیہ مزید مؤثر انداز میں پیش کرے۔
یہ بھی پڑھیں:جاتی امرا شیطانیت کا مرکز بن گیا، شیطان کی کنیزیں جھوٹ کو چھپا رہی ہیں :شیخ وقاص