بڑا اعلان؛ نیتن یاہو نے گھٹنے ٹیک دیئے؛ فلسطینیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) غزہ کے مجبور و بے کس فلسطینیوں کو جنگ کے بعد کی پہلی سب سے بڑی خوشخبری مل گئی۔اسرائیل نے تقریباً سوا دو سال سے غزہ پر مسلسل بمباری کے بعد بالآخر فلسطینیوں کا ایک دیرینہ مطالبہ مان لیا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ غزہ کے مجبور و بے کس فلسطینیوں کو جنگ کے بعد کی پہلی سب سے بڑی خوشخبری مل گئی ہے۔ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے بین الاقوامی دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے۔ اسرائیل نے دو سال کی بندش کے بعد مصر اور غزہ کے درمیان سرحد کا راستہ کھولنے کا اعلان کر دیا۔
ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ اور مصر کے درمیان واحد زمینی راستہ رفح گزرگاہ کو یکم فروری سے دوبارہ کھولنے کا اعلان کردیا جو 2 برس سے بند تھی۔
یہ اقدام امریکی ثالثی میں طے پائی گئی غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت کیا گیا ہے اور جس کے لیے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو حیل وحجت سے کام لے رہے تھے۔
فح گزرگاہ صرف محدود پیمانے پر لوگوں کی آمد و رفت کے لیے کھولی جائے گی مثلاً وہ فلسطینی جو پہلے غزہ سے نکل چکے تھے یا علاج کے لیے خصوصی اجازت کے حامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: ہم کتنا جئیں گے، کب مریں گے؛ یہ تو پہلے لکھا جا چکا ہے! سائنسدانوں نے آخر مان لیا
رفح راہداری دوطرفہ کھول دینے کے باوجود یہاں سے امدادی سامان یا تجارت کی آمدورفت کی اجازت نہیں ہوگی کیوں کہ اسرائیل سمجھتا ہے اس طرح اسلحہ کی ترسیل ہوسکتی ہے۔
اس راہداری سے گزرنے والوں کے لیے اسرائیل اور مصر کی مشترکہ سکیورٹی جانچ لازمی ہوگی جب کہ یہ عمل یورپی یونین کی مانیٹرنگ میں کیا جائے گا۔
اسی دوران یہ خبریں بھی آئی ہیں کہ غزہ کی انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ کچھ سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے رفح راہداری کے کھولنے کی افتتاحی تقریب میں مزید تاخیر بھی ہوسکتی ہے۔
رفح راہداری غزہ کے لگ بھگ 2 ملین افراد کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ خوراک، دوائیں اور طبی امداد شدید قلت کا شکار ہیں۔
جنگ بندی کے باوجود غزہ میں تازہ اسرائیلی فائرنگ سے فلسطینیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں جس سے امن کوششیں غیر یقینی محسوس ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: انڈر19 ورلڈ کپ؛ جونئیر گرین شرٹس روایتی حریف کو ہرانے کیلئے ہر طرح تیار