حکومت نے جادو، کالا جادو، سفلی عمل اور ٹونے ٹوٹکوں کو جرم قرار دیدیا 

مذہب اور روحانیت کے نام پر گھر بربادکرنیوالوں کیخلاف شکنجہ کسنا ضروری ہے،  بیرسٹر وقاص ابریزکی  مارننگ وِد فضا میں گفتگو 

Sep 29, 2025 | 15:50:PM
حکومت نے جادو، کالا جادو، سفلی عمل اور ٹونے ٹوٹکوں کو جرم قرار دیدیا 
کیپشن: بیرسٹر وقاص ابریز مارننگ وِد فضا میں گفتگو کرتے ہوئے
سورس: 24 News
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)ماہر قانون بیرسٹر وقاص ابریز نےکہاہے کہ حکومتِ پاکستان نے جادو، کالے جادو، سفلی عمل اور ٹونے ٹوٹکوں کو باقاعدہ طور پر جرم قرار دے دیاہے،اس مقصد کے لیے تعزیراتِ پاکستان میں نیا سیکشن 297A شامل کیا گیا ہے جس کے تحت ایسے تمام افراد جو جادو، کالا جادو یا اس نوعیت کی کوئی سروس فراہم کریں گے یا روحانی علاج اور کاؤنسلنگ کے نام پر دھوکہ دیں گے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
 ماہر قانون بیرسٹر وقاص ابریز نے24نیوزکے پروگرام’’ مارننگ وِد فضا‘‘ میں میزبان فضاعلی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جعلی عاملوں  اور نام نہاد روحانی  علاج کرنے والوں کے خلاف سابقہ قانون کو مزید سخت کردیا گیا ہے جس کے تحت مجرم کو کم از کم چھ ماہ قید اور زیادہ سے زیادہ سات سال قید کی سزا دی جا سکتی ہے جبکہ اس پر دس لاکھ روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا،اس جرم کو ضابطہ فوجداری کے شیڈول II میں شامل کرتے ہوئے اسے ناقابلِ ضمانت قرار دے دیا گیا ہے، اس جرم میں ملوث افراد کی گرفتاری وارنٹ کے ذریعے ہوگی اور مقدمات کی سماعت سیشن کورٹ میں کی جائے گی۔ 
بیرسٹر وقاص نے کہا کہ جو غلط الزامات  لگائے گا ، یہ نہیں کہ یہ مقدمہ لٹکتا رہے گا ان مقدمات کا فیصلہ کرنا 6 ماہ میں ضروری ہو گا،تاہم قانون میں یہ گنجائش رکھی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص وزارتِ مذہبی امور سے باقاعدہ لائسنس حاصل کر کے صرف روحانی مشاورت یا کاؤنسلنگ کرتا ہے تو اس پر یہ قانون لاگو نہیں ہوگا،سادہ الفاظ میں کہا جائے تو اب پاکستان میں جادو ٹونا، کالا جادو اور ٹونے ٹوٹکوں کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دینے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی اور ملوث افراد کو جیل اور بھاری جرمانے دونوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔


بیرسٹر وقاص ابریز نے کہا کہ آرٹیکل 227 کے مطابق کوئی ایسی رسم فروغ نہیں پا سکتی جو پاکستان کی اسلامی اقدار کے منافی ہوجومذہب اور روحانیت کے نام پر لوگوں کے گھر برباد کرتے ہیں ان کے خلاف شکنجہ کسنا ضروری ہے ، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں یہ قانو ن  پاس کر دیا ہے، بہت جلد یہ قانون  بن جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:جواایپس کیس:مزید آٹھ یوٹیوبرز کےخلاف مقدمات درج کرنے کا فیصلہ
 ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر وقاص ابریز نے کہا کہ جھوٹے الزمات عائد کرکے اس قانون کو کسی کے خلاف استعمال کرنا بھی مشکل ہو گا ،پاکستان پینل کوڈ کے لئے دفعہ  182موجود ہے جس میں   6 ماہ کی سزا ہے ،250 دفعہ موجود ہے جو مجسٹریٹ یا سیشن جج کو یہ اختیار دیتا ہے کہ جو شخص کسی کے خلاف  غلط ایف آئی آر درج کرے اسکے خلاف 5لاکھ تک جرمانہ کر سکتا ہے، جھوٹے مدعی من گھرٹ الزامات کے تحت مقدمات قائم کرنے والوں کے خلاف بھی گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے ۔