دنیا کے آلودہ شہروں میں لاہور سرفہرست،مجموعی ائیر کوالٹی انڈکس 435 ریکارڈ

Oct 29, 2025 | 08:54:AM
دنیا کے آلودہ شہروں میں لاہور سرفہرست،مجموعی ائیر کوالٹی انڈکس 435 ریکارڈ
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (24 نیوز ) پنجاب میں فضائی آلودگی کی صورتحال بدستور تشویش ناک ہے،  لاہورآلودگی میں عالمی ادارہ صحت ڈبلیوایچ اوکےمقررمعیارسےکئی گنازیادہ آگےنکل گیا ۔  لاہور ایک بار پھر دنیا کے سب سے آلودہ شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔

عالمی ماحولیاتی ادارے آئی کیو ائیر کے مطابق بدھ کی صبح لاہور کا مجموعی ائیر کوالٹی انڈکس (اے کیو آئی) 435 ریکارڈ کیا گیا، جو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک سطح ہے۔ اس کے مقابلے میں بھارتی دارالحکومت دہلی کا اے کیو آئی 235 رہا۔

محکمہ ماحولیات پنجاب کے اعداد و شمار کے مطابق آج صبح 6 بجے لاہور کے کئی علاقوں میں فضائی معیار خطرناک حد تک خراب تھا۔ کاہنہ نو، جی ٹی روڈ اور ایجرٹن روڈ پر اے کیو آئی 500 تک جا پہنچا، جوانتہائی مضر کیٹگری میں شمار ہوتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں:’یہ واقعی حیران کن تھا ‘‘  ٹرمپ کے  بیان  سے مودی کے زخم تازہ ہوگئے

شاہدرہ میں 391، ڈی ایچ اے فیز 6 میں 371، برکی روڈ پر 361، ملتان روڈ پر 344 اور سفاری پارک کے قریب 339 ریکارڈ ہوا۔ پنجاب یونیورسٹی کے علاقے میں اے کیو آئی 303 رہا، جبکہ نسبتاً بہتر فضا واہگہ بارڈر پر دیکھی گئی، جہاں یہ شرح 176 تھی۔

پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی صورتحال مختلف نہیں رہی۔ سرگودھا میں اے کیو آئی 344، فیصل آباد میں 296، ملتان میں 287، گوجرانوالہ میں 274، قصور میں 257، شیخوپورہ میں 245، ڈیرہ غازی خان میں 217، سیالکوٹ میں 162، بہاولپور میں 154 اور راولپنڈی میں 130 ریکارڈ کیا گیا۔

ادارہ تحفظ ماحولیات کے مطابق بدھ کے روز لاہور کا اوسط اے کیو آئی 245 سے 275 کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ صبح 6 سے 9 بجے کے اوقات میں ٹریفک کے دباؤ اور درجہ حرارت میں کمی کے باعث آلودگی کی شدت مزید بڑھ کر 315 سے 340 تک جا سکتی ہے۔

دن کے وقت کچھ بہتری متوقع ہے، دوپہر 12 بجے سے شام 5 بجے کے درمیان اے کیو آئی 180 تک گر سکتا ہے، تاہم شام کے اوقات میں دوبارہ اضافہ متوقع ہے اور رات 11 بجے تک یہ شرح 345 تک پہنچ سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور کا درجہ حرارت 20 سے 31 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہے گا، جبکہ ہوا کی رفتار ایک سے 10 کلومیٹر فی گھنٹہ تک متوقع ہے۔

ٹریفک، کوڑا جلانے اور گردوغبار کے باعث فضا میں کاربن اور ذرات (PM10) کی مقدار میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جو مجموعی آلودگی کو مزید بڑھا رہا ہے۔

  مزید پڑھیں:سکول 2روز کیلئے بند

ائیرکوالٹی سے متعلق ڈیٹا فراہم کرنیوالے عالمی اداروں کے مطابق گزشتہ چار برسوں سے اکتوبر اور نومبر کے مہینے لاہور میں سب سے زیادہ آلودہ ثابت ہو رہے ہیں۔ سال 2022 میں اکتوبر کا اوسط اے کیو آئی 182 رہا، جس دوران 19 دن فضا غیر صحت بخش درجے پر رہی۔

سال 2023 میں اکتوبر میں بہتری آئی اور اوسط شرح 128 ریکارڈ ہوئی، مگر نومبر میں دوبارہ اضافہ ہو کر 205 تک پہنچ گیا۔ سال 2024 میں اکتوبر کا اوسط اے کیو آئی 163 اور نومبر کا 184 رہا، جبکہ 2025 میں اکتوبر اور نومبر کے دونوں مہینوں میں اوسط انڈیکس 171 ریکارڈ کیا گیا۔ ان تمام برسوں میں لاہور میں ایک بھی دن ایسا نہیں آیا جب فضائی معیار "اچھا" قرار دیا جا سکے۔

چار سالہ مجموعی اوسط کے مطابق لاہور کا سالانہ اے کیو آئی 2022 میں 184، 2023 میں 121، 2024 میں 126 اور 2025 میں 117 رہا۔

 کراچی کا فضائی معیار بھی خراب، ساتویں نمبر پر آگیا۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ لاہور میں آلودگی کا رجحان مسلسل برقرار ہے اور شہری طویل عرصے سے غیر صحت بخش فضا میں سانس لینے پر مجبور ہیں۔

ادارہ تحفظ ماحولیات لاہور کے ڈپٹی ڈائریکٹر علی اعجاز کے مطابق، اکتوبر اور نومبر کے مہینوں میں آلودگی بڑھنے کی بڑی وجوہات میں فصلوں کی باقیات جلانا، گاڑیوں کے دھوئیں میں اضافہ اور موسم کی تبدیلیاں شامل ہیں۔

 ان کا کہنا ہے کہ حکومت سموگ کے تدارک کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے، تاہم مؤثر بہتری کے لیے شہری تعاون اور سخت عمل درآمد ضروری ہے۔

انہوں نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ماسک پہننے کو معمول بنائیں، کچرا جلانے سے گریز کریں اور گاڑیوں کی بروقت دیکھ بھال کریں تاکہ دھوئیں کے اخراج کو کم کیا جا سکے۔

 دوسری جانب سموگ  کی بڑھتی ہوئی خطرناک صورتحا ل نے سکول جانے والے طلبہ کی مشکلات بھی بڑھا دی ، فضائی آلودگی  سے تعلیمی ادارے بند ہوں گے یا نہیں اس حوالے سے  فیصلہ حکومت کو  کرنا ہے۔

واضح رہے کہ حکام نے بتایا تھا کہ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے 16 مکینیکل واشرز، 50 واشر رکشے اینٹی سموگ آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں، سڑکوں کی واشنگ اور پانی کا چھڑکائو کرنے کیلئے 200 صفائی اہلکار دن کی شفٹ میں اور 200 ورکرز رات کی شفٹ میں تعینات کئے گئے ہیں، دن اور رات کی شفٹ میں 300 کلومیٹر سے زائد شاہراہوں پر واشنگ اور پانی کا چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے۔