ایران سے جنگ: امریکہ میں مہنگائی کا طوفان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)امریکہ میں اپریل کے دوران مہنگائی کی شرح گزشتہ 3 برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جس کی بڑی وجہ ایران جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ قرار دی جا رہی ہے۔
بڑھتی ہوئی قیمتوں کے سبب امریکی مرکزی بینک آئندہ سال تک شرح سود میں تبدیلی سے گریز کر سکتا ہے۔
امریکی محکمہ تجارت کے مطابق پرسنل کنزمپشن ایکسپینڈیچر(PCE) پرائس انڈیکس اپریل میں سالانہ بنیاد پر 3.8 فیصد بڑھا، جو مئی 2023 کے بعد سب سے بڑا اضافہ ہے۔
مارچ میں یہی شرح 3.5 فیصد تھی۔ ماہانہ بنیاد پر مہنگائی میں 0.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں شپنگ متاثر ہوئی، جس سے تیل، کھاد، ایلومینیم اور دیگر اشیائے صرف کی عالمی سپلائی چین دباؤ کا شکار ہوگئی۔
امریکی ادارہ توانائی کے مطابق اپریل میں پیٹرول کی اوسط قیمت میں 12.3 فیصد اضافہ ہوا جبکہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایندھن کی قیمتیں 50 فیصد سے زائد بڑھ چکی ہیں۔
خوراک، کپڑوں، ٹرانسپورٹ اور رہائشی سہولیات کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ خوراک کی قیمتیں 0.5 فیصد جبکہ تفریحی سامان اور گاڑیوں کی قیمتیں 1.6 فیصد بڑھیں۔
مزید پڑھیں:نیو یارک: میئر ظہران ممدانی کا منفرد انداز وائرل
رپورٹ کے مطابق بڑھتی مہنگائی نے امریکی شہریوں کی قوتِ خرید متاثر کی ہے۔
افراطِ زر کو مدنظر رکھتے ہوئے گھریلو قابلِ استعمال آمدنی میں مسلسل تیسرے ماہ کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ بچت کی شرح گر کر 2.6 فیصد پر آگئی، جو جون 2022 کے بعد کم ترین سطح ہے۔
امریکی صدر کو بھی معاشی دباؤ کے باعث عوامی تنقید کا سامنا ہے۔
ایک حالیہ سروے کے مطابق مہنگائی کم کرنے کے وعدوں کے باوجود عوام کی بڑی تعداد حکومت کی معاشی پالیسیوں سے غیر مطمئن ہے، جس سے ریپبلکن پارٹی کی آئندہ وسط مدتی انتخابات میں پوزیشن متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ادھر وال اسٹریٹ میں حصص کی قیمتوں میں بہتری دیکھی گئی کیونکہ اطلاعات سامنے آئیں کہ امریکہ اور ایران جنگ بندی میں توسیع کے ایک ابتدائی معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ مسلسل مہنگائی امریکی معیشت کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔