او جی ڈی سی ایل نے 27 افسروں کو کلب کی رکنیت دلوانے پر 27 ملین روپے اجاڑ دیئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) سید نوید قمر کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کےاجلاس میں پٹرولیم ڈویژن سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔
او جی ڈی سی ایل کا ڈرلنگ کمپنی کو خلاف ضابطہ کنٹریکٹ دینے کےمعاملہ پر حکام نے بتایا کہ او جی ڈی سی ایل نے ایک کمپنی کو خلاف ضابطہ کنٹریکٹ میں توسیع دی۔
اس پر سید نوید قمر نے قرار دیا کہ وزارت قانون یہ بتائےکہ کنٹریکٹ کی توسیع خلاف ضابطہ تھی یا نہیں۔
اجلاس مین موجود وزارت قانون کے حکام نے بتایا کہ جی بالکل کنٹریکٹ میں توسیع خلاف ضابطہ اقدام تھا ۔
وزارت پٹرولیم کے حکام نے اصرار کیا کہ ایم ڈی کے پاس کنٹریکٹ میں توسیع دینےکا اختیار تھا۔
سید نوید قمر نے آڈٹ حکام کو ہدایت کی کہ یہ کنفرم کیا جائے کہ جس وقت کنٹریکٹ میں توسیع دی گئی، اس وقت او جی ڈی سی کے ایم ڈی کے پاس یہ اختیار تھا یا نہیں۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں او جی ڈی سی ایل سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ او جی ڈی سی ایل نے اپنے 27 افسران کو 27 ملین روپے ایک کلب کی ممبرشپ فراہم کرنے پر خرچ کر دیئے۔
آڈٹ حکام نے بتایا کہ ای جی ڈی سی ایل کے پندرہ افسران کی اس کلب کی ممبرشپ ان افسروں کے او جی ڈی سی ایل سے ریٹائر ہو چکنے کے بعد بھی جاری رہی۔ آڈٹ حکام نے نشاندہی کی کہ ان افسران کو ان کے عہدوں کی بجائے ان کے نام پر ممبر شپ دی گئی۔ آڈٹ حکام نے سرکاری فنڈز سے افسروں کو کلبوں کی رکنیت لے کر دینے کی اس پالیسی پر نظر ثانی کرنے کی سفارش کی۔
او جی ڈی سی حکم کے 27 ملین روپے یوں اہلکاروں کو کلب کا ممبر بنوانے پر خرچ کر دینے کے معاملہ پر ذیلی کمیٹی کے کنوینر سید نوید قمر نے حیرانگی کا اظہار کیا۔
سید نوید قمر نے اس پالیسی پر نظر ثانی کی ہدایت کردی۔
یہ بھی پڑھیئے: پنجاب اسمبلی میں مریم اورنگزیب کے خطاب کے دوران اپوزیشن ارکان کا شورشرابا