2سال 7 ماہ میں 8 کھرب 40 ارب روپے کی ریکوری کی، چئیرمین نیب
Stay tuned with 24 News HD Android App
(عثمان خان)چئیرمین نیب کا کہنا ہےکہ 2سال 7 ماہ میں مجموعی طور پر 8 کھرب 40 ارب روپے کی ریکوری کی ہے ۔نیب کو دو سال سات ماہ میں 15ارب 33 کروڑ روپے کا بجٹ ملا، نیب نے ایک روپے کے خرچ کے عوض 548روپے کی ریکوری کی ۔
تفصیلات کے مطابق چئیرمین نیب نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ایڈیٹرز اور بیورو چیف سے ملاقات کے دوران بتایا کہ گذشتہ 23سالوں میں نیب نے مجموعی طور پر 883 ارب روپے کی ریکوری کی تھی ،نیشنل اکاونٹیبلٹی ایکٹ کی ایمینڈمننٹس کے بعد نیب میں اصلاحات کی گئی،اصلاحات سے نیب میں بہترین اہداف حاصل کیے ہیں ،نیب کا ادارہ اب تبدیل ہوگیا ہے ،جو غلطیاں تھیں انکی اصلاح کی ہیں ،نیب میں ایس او پی وضع کردییے گئے ہیں ،نیب میں جھوٹی اور بوگس شکایت درج کرانے والے خلاف کارروائی کا میکنزم بنایا گیا ہے،ایس او پی سے بوگس اور بلیک میلنگ کے لیے کی گئی شکایات کا خاتمہ ہوا ہے ،نیب میں ایس او پی وضع کردییے گئے ہیں ،نیب میں انٹرنل اکاونٹیبلٹی سیل قائم کردیا گیا ہے ۔
چئیرمین نیب نے کہا کہ تمام ریجنل بیور مہینے میں ایک دفعہ کھلی کچہری لگاتے ہیں،شکایت کندہ کے لیے فیڈ بیک سسٹم بنا دیا گیا ہے اور پرفارما بنایا گیا ہے،نیب ڈیجلائزیشن پر منتقل ہوگیا ہے، تفتیش کے لیے جدید آے آئی ٹولز استعمال کیے جارہے ہیں ،مقدمے کے کسی بھی مرحلے پر ملزم کو سنے جانے کا حق دیا گیا ہے،ہائی لیول کمیٹی بنائی گی ہے جو ملزم کی شکایت پر اسکی تفتیش کا تفصیلی جائزہ لے گی ،نیب میں شکایت کندہ کی سہولت کے لیے ان لائن بیان دینے کی سہولت متعارف کردی گئی ہے ،
نیب کا خوف جو ماضی میں تھا وہ ختم کیا جارہا ہے،نیب اب گورنمنٹ آفیسرز ،پارلیمنٹیرین اور اسمبلی کے ممبران کو ڈائریکٹ نوٹس نہیں کرتا ہے ،سرکاری آفسران کے خلاف شکایت کو متعلقہ چیف سیکرٹری یا سٹیبلشمنٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے ،کاروباری افراد کے ساتھ اعتماد سازی کی فضا قائم کی جارہی ہے ،تمام چیمبر آف کامرس میں کے ساتھ قریبی روابط قائم کیے جارہے ہیں ،وفاقی ،صوبائی اور عدالتوں کی جانب سے شکایات کو ترجیحی دی جاتی ہے ،عوام الناس کے ساتھ فراڈ کی شکایت کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جاتا ہے ،صوبائی اور وفاقی محکموں کے ساتھ ملل کر سرکاری اثاثے واگزار کروائے جارہے ہیں، نیب اب تک 45 لاکھ ایکٹر سے زائد سرکاری زمین واگزار کرا چکا ہے ،جس میں سے 30 لاکھ 92 ہزار 533 جنگلات کی جگہ ہے ،13لاکھ ننانوے ہزار تین سو سینتیس ایکڑ مینگورز لینڈ ہے
39 ہزارچھ سو چوالیس ایکڑ ریونیو اتھارٹیز کی لینڈ ہے ،این ایچ اے کی 1228 ایکڑ زمین واگزار کرائی،مجموعی طور پر853 ارب روپے کی زمین واگزار کروائی گئی ہے ،بلوچستان کی 10 لاکھ تیتیس ہزار آٹھ سو تیس ایکٹر زمین ،سندھ کی 34 لاکھ بہتر ہزار نو سو بیالیس ایکٹر ،پنجاب کی24 ہزار پانچ سو اٹھانوے ایکڑ زمین اورکے پی کے گورنمنٹ کی 300 سو بہتر کنال زمین واگزار کرائی گئی۔
چئیرمیں نیب ننے بتا یا کے ریکوری کی مدد فیڈرل اور صوبائی گورمنٹ 6ارب 57 کروڑ منتقل کردیے ہیں ،ہاوسنگ سوسائٹیز ایک لاکھ اکیس ہزار چھ سو پیتیس متاثرین پیسے واپیس دلوائے گئے ،ہاؤسنگ سوسائیٹز کے متاثرین میں مجموعی طور پر کو 124 ارب چھیاسی کروڑ روپے واپس دلوائے گئے،آوٹ آف دی کورٹ سیٹلمینٹ میں عوام کا مفاد مقدم رکھا جاتا ہے ،سیٹلمنٹ میں کوڑیوں کے بھاو والا تاثر سراسر غلط ہے۔پاکستان سے بدعنوانی کا خاتمہ ہوجائے تو اس ملک کی کسی قرضہ کی ضروت نہیں ہے ۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان دشمنی ، جھوٹے بھارتی میڈیا کی ایک اور پروپیگنڈا سازش بے نقاب