پولیس میں انسانیت کی بڑی مثال, ایک ڈی آئی جی 244 بچوں کاباپ!
Stay tuned with 24 News HD Android App
(سجاد اظہر پیرزادہ) پاکستانی معاشرے میں ہمیں بہت سی خرابیاں نظر آتی ہیں۔ شہریوں کو خاص طور پر پولیس سے شکایت رہتی ہے۔ پولیس کے بعض اناپرست،نالائق اور متکبر افسر و اہلکار لوگوں کو شکایات کرنے اور انگلیاں اٹھانے کا موقع پلیٹ میں رکھ کر فراہم کرتے ہیں۔ تو دوسری طرف اسی ادارے میں ایسے عظیم لوگ بھی ہیں جو انسان کی عظمت، بھاری چارے پر اپنے وجود کی طرح یقین رکھتے ہیں۔ اِنہی میں ایک نام پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی محبوب للہ کا بھی ہے۔
کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج چوہنگ محبوب للہ اور ان کی اہلیہ صوفیہ وڑائچ کو اللہ نے چار بچوں کی نعمت سے نواز رکھا ہے۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے 244 بچوں کو گود لیا ہوا ہے۔ ان سیکڑوں بچوں کو انہوں نے کہاں کہاں سے گود لیا؟ ان کی پرورش پر کتنا خرچ کرتے ہیں؟ انہیں کہاں رکھا ہوا ہے؟ یہ سب معلومات آپ 24 نیوز پر انٹرویو میں دیکھ سکتے ہیں، جس کا لنک یہاں شیئر کیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی محبوب للہ نے وہ دل دہلادینے والی کہانی بھی سنائی کہ کس طرح سے ایک ماں باپ نے اپنے بچوں کو سڑک پر پھینک دیا تھا، آپ کو یہ جان کر بھی حیرانی ہوگی کہ وہ بچے اب کس حال میں ہیں؟ وہ اب کہاں رہتے ہیں؟
اِس انٹرویو میں یہ داستان بھی قارئین کے لیے کسی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ چیئرپرسن المرا صوفیہ وڑائچ نے مسلم بچوں کیساتھ ساتھ کرسچن بچوں کو بھی گود لے لیا ہے۔ حمزہ علی عباسی، ہمایوں سعید،محبوب للہ مل کر اب ایک نیا ویلیج بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں،جس کے بارے میں آپ اس انٹرویو میں تفصیل سے جان سکتے ہیں۔