ملک بھر میں پھر شدید بارشوں کی پیشگوئی،سیلاب کا الرٹ ،گلگت بلتستان میں سرچ آپریشن جاری
دریا سندھ کا بڑا سیلابی ریلا ڈی جی خان کی حدود میں داخل ،جھنگ میں دریائے چناب میں طغیانی،متعدددیہات زیر آب
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز ) ملک بھر میں آج سےپھر شدید بارشوں کی پیشگوئی ، گلگت بلتستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہے، سیلاب کا الرٹ بھی جاری کر دیا گیا ۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ موسمیات کے مطابق آج سے مون سون ہوائیں شدت کے ساتھ ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہوں گی، جمعرات کے دوران اسلام آباد، پنجاب، خیبر پختونخوا،گلگت بلتستان اور کشمیر میں کے بعض مقامات پر شدید بارش کا امکان ہے۔
شدید بارشوں کے باعث سیلاب ، ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ ہو سکتی ہے،بلوچستان میں کل رات سے 31 جولائی کے دوران کہیں کہیں موسلادھار بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے،اس کے علاوہ سندھ میں بدھ اور جمعرات کو بارش کا امکان ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نےگلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ممکنہ بارشوں کے باعث سیلاب کا الرٹ جاری کردیا۔
این ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال پید ا ہونے کاخدشہ ہے، پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کے پیش نظر لینڈ سلائیڈنگ متوقع ہے جب کہ چترال، بونی اور ریشن کے علاقوں میں بارش اورگلیشئرزپگھلنے سے دریائےچترال کا بہاؤ بڑھ سکتاہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں حالیہ بارشوں سے اموات کی تعداد 279 ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں:تحریک عدم اعتماد ، نمبر گیم پوری؟ گورنر کے پی کابڑا اعلان سامنے آگیا
دوسری جانب گلگت بلتستان میں پاک فوج ،جی بی سکاؤٹس اور جی بی حکومت کا سرچ آپریشن جاری ہے ،تھور شیطن اور مینارکے مقام پر متعدد مکانات سیلاب میں بہہ گئے ،واپڈا کالونی تھور میں سیلاب کا پانی داخل ہو گیا ،رابطہ پل بھی بہہ گیا۔
گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق کے مطابق تھک بھاشہ کے مقام پر سرچ آپریشن کے دوران سیلابی ملبہ میں انسانی اعضا ملے ہیں ، انسانی اعضا جلد شناخت کیلئے فرانزک بھیجے جائیں گے ، نیاٹ ویلی میں بھی سیلاب سے شدید نقصان ہوا،وادی میں 8 چھوٹے گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں، امدادی کارروائیاں تیز کرنے کیلیے ڈپٹی کمشنر کو نیاٹ ویلی روانہ کر دیا گیا ہے۔
سیکریٹری مواصلات پاکستان علی شیر مسعود نے سیلاب سے متاثرہ تھک بابوسر کا دورہ کیا ،علی شیر مسعود نے 8کلومیٹر پیدل چل کر سیلابی صورت حال اور روڈ کا جائزہ لیا۔اس موقع پر انہوں نے کہاکہ روڈ کی بحالی کیلئے تیزی سے دن رات کام جاری ہے ،کل صبح دس بجے تک شاہراہ بابوسر چھوٹی گاڑیوں کے لیے کھول دیا جائیگا،روڈ پر پڑا تمام ملبہ مستقل بنیادوں پر ٹھکانے لگانے کیلئے جگہ کا تعین کررہے ہیں۔
دریا سندھ کا بڑا سیلابی ریلا تونسہ سے ڈی جی خان کی حدود میں داخل
دریا سندھ کا بڑا سیلابی ریلا تونسہ سے ڈی جی خان کی حدود میں داخل ہوگیا، ضلعی انتظامیہ نے الرٹ جاری کردیا،جھنگ میں دریائے چناب میں طغیانی سے دس سے زائد دیہات زیر آب آگئے۔
وسیع رقبے پر کھڑی فصلوں اور آبادیوں میں پانی داخل ہوگیا، رابطہ سڑکیں زیر آب آگئیں، جبکہ راجن پور میں فصلوں کو نقصا ن پہنچا،دوسری جانب حافظ آباد میں دریائے چناب کے گرد کٹاؤ میں اضافہ ہوگیا، متعدد دیہات کی سیکڑوں ایکڑ زرعی اراضی دریا برد ہوچکی ہے۔