ٹیکس نظام، عدلیہ اور پالیسیوں میں تسلسل کی ضرورت

تحریر:ملک اشرف 

Jan 28, 2026 | 19:18:PM
ٹیکس نظام، عدلیہ اور پالیسیوں میں تسلسل کی ضرورت
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملکی معیشت کی کمزوری، بڑھتا ہوا مالی خسارہ اور ریاستی ضروریات کا دباؤ ایک ایسے مؤثر ٹیکس نظام کا تقاضا کرتا ہے جو شفاف بھی ہو اور قابلِ اعتماد بھی۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ٹیکس کو آج بھی ایک بوجھ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ریونیو کی مؤثر وصولی کے بغیر کسی بھی ریاست کا انتظامی اور معاشی ڈھانچہ مستحکم نہیں رہ سکتا۔
لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میں جوڈیشل ممبر اپیلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو محمد محسن ورک کا حالیہ خطاب اسی تناظر میں غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا۔ انہوں نے نہ صرف ٹیکس وصولی کی اہمیت پر روشنی ڈالی بلکہ اس پورے نظام میں شامل تمام فریقین۔ ٹیکس گزار، وکلاء اور ریاستی اداروں۔ کی ذمہ داریوں کو بھی واضح انداز میں بیان کیا۔
محمد محسن ورک کا کہنا تھا کہ ٹیکس گزاروں کو درست نیت کے ساتھ صحیح گوشوارے جمع کرانے چاہئیں، کیونکہ غلط بیانی یا معلومات چھپانے کی روش بعد میں مالی اور قانونی مشکلات کو جنم دیتی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ٹیکس معاملات میں بدنیتی یا لاپرواہی نہ صرف فرد کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ پورے نظام کو عدم اعتماد کا شکار کر دیتی ہے۔
انہوں نے وکلاء کے کردار پر بھی خصوصی زور دیا اور کہا کہ ٹیکس قوانین کے تحت مقدمات میں پیشی کے وقت مکمل تیاری ناگزیر ہے۔ وکلاء کو چاہیے کہ متعلقہ قوانین، اعلیٰ عدلیہ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے معزز عدالتوں اور مجاز اداروں کے سامنے اپنا مؤقف پیش کریں۔ ایک مضبوط قانونی دلیل نہ صرف انصاف کی فراہمی میں مدد دیتی ہے بلکہ غیر ضروری مقدمہ بازی اور تاخیری حربوں کا بھی سدباب کرتی ہے۔ محمد محسن ورک کے خطاب کا ایک نہایت اہم پہلو ٹیکس پالیسیوں میں تسلسل کی تجویز تھی۔ محمد محسن ورک نے بجا طور پر نشاندہی کی کہ بار بار قوانین میں ترامیم ٹیکس گزاروں میں بے یقینی پیدا کرتی ہیں اور سرمایہ کاری کے ماحول کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس قوانین میں تبدیلی سے قبل متعلقہ سیکٹرز، ٹیکس دہندگان اور بار ایسوسی ایشنز سے مشاورت ہونی چاہیے، تاکہ قوانین زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہوں اور ان پر مؤثر عملدرآمد ممکن ہو سکے۔درحقیقت، پاکستان کو آج جس سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے وہ قوانین کی کثرت نہیں بلکہ ان کا غیر مستحکم اور غیر متوقع ہونا ہے۔ جب ٹیکس پالیسیوں میں تسلسل نہیں ہوتا تو ٹیکس گزار اعتماد کھو بیٹھتا ہے، نتیجتاً ریاست اور شہری کے درمیان فاصلے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔یہ وقت اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ ٹیکس کو سزا نہیں بلکہ قومی ذمہ داری کے طور پر دیکھا جائے۔ ریاست کو شفاف اور منصفانہ نظام فراہم کرنا ہوگا، وکلاء کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری دیانتداری سے نبھانی ہوگی اور ٹیکس گزار کو قانون کے مطابق درست رپورٹنگ کو اپنا شعار بنانا ہوگا۔ اگر ٹیکس پالیسیوں میں تسلسل، قوانین میں استحکام اور عملدرآمد میں انصاف کو یقینی بنا لیا جائے تو یہی ٹیکس نظام ملکی معیشت کے استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے۔

محمد محسن ورک کا شمار ٹیکس قانون کے اُن ماہرین میں ہوتا ہے جنہوں نے عملی وکالت اور عدالتی فورمز—دونوں سطحوں پر طویل اور متنوع تجربہ حاصل کیا۔ بطور نامور وکیل وہ برسوں تک ٹیکس معاملات میں رہنمائی کرتے رہے ہیں، جبکہ جوڈیشل ممبر اپیلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو کی حیثیت سے انہیں ٹیکس تنازعات، انتظامی کمزوریوں اور قانونی سقم کا براہِ راست مشاہدہ حاصل ہے۔ وہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ممبر ایگزیکٹو بھی رہ چکے ہیں، جس کے باعث ان کی سوچ محض عدالتی دائرے تک محدود نہیں بلکہ بار اور بنچ کے باہمی تعلق، قانونی پالیسی سازی اور ادارہ جاتی اصلاحات تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیکس پالیسیوں میں تسلسل، مشاورت اور کم ترامیم سے متعلق ان کی تجاویز کو وکلاء برادری اور ٹیکس گزار حلقوں میں غیر معمولی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔

دیگر کیٹیگریز: بلاگ
ٹیگز: