بار کی سیاست یا جمہوریت کا امتحان؟
ملک اشرف
Stay tuned with 24 News HD Android App
لاہور کی قانونی برادری ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں سوال صرف ایک انتخاب کا نہیں بلکہ ادارہ جاتی ساکھ کا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کے نتائج نے وہ منظر پیش کیا جس کی مثال بار کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ دونوں صدارتی امیدواروں نے خود کو کامیاب قرار دیا اور یوں بار کی سیاست باقاعدہ بحران میں داخل ہو گئی۔
الیکشن بورڈ نے پروفیشنل گروپ کے حمایت یافتہ امیدوار بابر مرتضی خان کو صدر قرار دیا۔ جشن منایا گیا، میڈیا سے گفتگو ہوئی اور کامیابی کا اعلان کیا گیا۔ دوسری جانب وکیل رہنما احسن بھون کی زیر صدارت جنرل ہاؤس اجلاس میں انڈیپنڈنٹ گروپ کے امیدوار راجہ عامر خان کو صدر منتخب قرار دے دیا گیا۔ یوں ایک ہی نشست پر دو دعوے سامنے آ گئے۔یہ صورتحال محض گروپ بندی کا شاخسانہ نہیں بلکہ اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا بار کے انتخابات شفاف اور غیر جانبدارانہ انداز میں کرائے جا رہے ہیں؟ اگر پولنگ مقررہ وقت سے پہلے روک دی گئی، اگر نتائج کے اعلان پر ہنگامہ آرائی ہوئی، اگر امیدوار اور ان کے حامی نتائج کو مسترد کر رہے ہیں تو پھر یہ صرف ایک انتظامی معاملہ نہیں رہتا، یہ اعتماد کا بحران بن جاتا ہے۔
بار ایسوسی ایشن کسی بھی معاشرے میں قانون کی بالادستی اور جمہوری روایات کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ وکلاء وہ طبقہ ہیں جو عدالتوں میں شفافیت، آئین کی بالادستی اور انصاف کی بات کرتے ہیں۔ اگر انہی کے اپنے انتخابات متنازع ہوں تو اس کے اثرات محض ایک تنظیم تک محدود نہیں رہتے بلکہ وسیع تر قانونی ماحول کو متاثر کرتے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ بار کی سیاست ہمیشہ سے متحرک اور گرم رہی ہے۔ نظریاتی اختلاف، گروپ بندی اور انتخابی مقابلہ جمہوریت کا حصہ ہیں۔ مگر جمہوریت کی روح تسلیمِ نتائج میں مضمر ہوتی ہے۔ اگر ہر ہارا ہوا فریق نتائج کو ماننے سے انکار کر دے تو پھر کسی بھی انتخاب کی وقعت باقی نہیں رہتی۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ الیکشن بورڈ، دونوں گروپس اور سینئر وکلاء مل بیٹھ کر اس بحران کا حل نکالیں۔ اگر بے ضابطگیوں کے الزامات ہیں تو ان کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ اگر نتائج درست ہیں تو انہیں دستاویزی شفافیت کے ساتھ پیش کیا جائے۔ بار کا وقار ذاتی یا گروہی مفادات سے کہیں بلند ہونا چاہیے۔
یہ معاملہ اگر عدالتوں تک جاتا ہے تو قانونی جنگ طویل بھی ہو سکتی ہے اور تلخ بھی۔ بہتر یہی ہے کہ بار اپنی روایات کے مطابق دانشمندی، مکالمے اور آئینی راستے کو اختیار کرے۔ کیونکہ آخرکار سوال یہ نہیں کہ صدر کون بنا، سوال یہ ہے کہ بار کی ساکھ برقرار رہتی ہے یا نہیں۔