حکمران امت کا حق ادا نہیں کررہے ، انکو اقتدار کا حق نہیں پہنچتا ،مولانا فضل الرحمان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکمران امت کا حق ادا نہیں کررہے ، انکو اقتدار کا حق نہیں پہنچتا ،علما نے کہا جہاد ہے اس کا مذاق اڑایا گیا ، ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا ، ان لوگوں نے اپنے آپ کو بے نقاب کردیا بتا دیا کہ یہ یہودیوں کے حامی ہیں،ہم نے حکمرانوں کے لیے اقتدار کے محل جہنم بنا دیئے تھے ، تمہارے لیے بھی یہ اقتدار جہنم کا گڑھا بنا دیں گے۔
مجلس اتحاد امت کے زیر اہتمام مینار پاکستان پر اسرائیل مردہ باد ملین مارچ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ اسرائیل جنگی مجرم ہے ،فلسطنیوں کی نسل کشی کر رہا ہے،عالمی عدالت نے نیتن یاہو کو مجرم قرار دیا ہے اور گرفتاری کا حکم دیا ہے، پہلگام پر اگر بھارت کو افسوس ہے تو ہمیں بھی ہے،مودی اسرائیل کا حامی ہے اس کے ساتھ کھڑا ہے ،مودی کا یہ اعلان بتاتا ہے کہ وہ مسلمانوں اور اسلام کا دشمن ہے ۔
سربراہ جے یو آئی نے کہاکہ جب پاکستان بنا تواسرائیل کے وجود ناجائز بچہ قرار دیا ،فلطسین کی حمایت سے پاکستان کے وجود کا آغاز ہوا ،فلسطینی محاذ جنگ پر ہیں ، قربانیاں دے رہے ہیں ،50 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور لاکھوں زخمی ہیں ،ان حالات میں بھی وہ جرأت سے اپنے ملک کا دفاع کررہے ہیں ،پاکستانی عوام فلسطینوں کے شانہ بشانہ ہے ۔
مولانا فضل الرحمان کا کہناتھا کہ نیتن یاہو کہتا ہے کہ ہم دفاعی جنگ لڑ رہے ہیں،کوئی بتادے کہ دفاع میں عورتوں اور بچوں کو قتل کیا جاتا ہے ،ان کاکہناتھا کہ پہلگام واقعے کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال دی گئی ،پاکستان پر بھارت کے بزدلانہ حملے کی بھی ایک تاریخ ہے ،نہتے لاہوریوں نے ان کو ڈنڈے مار کر بھگایا یہ بھی تاریخ ہے،اسرائیل کوئی ریاست نہیں اس نے فلسطین پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے ،امریکا اس جبر اور ناجائز قبضے کا ساتھ دے رہا ہے،برطانیہ نے جاتے ہوئے کشمیر اور امریکا نے عرب پر اسرائیل کا خنجر گھونپا ہے ۔
مولانا فضل الرحمان کاکہناتھا کہ حکمران امت کا حق ادا نہیں کررہے ، انکو اقتدار کا حق نہیں پہنچتا ،علما نے کہا جہاد ہے اس کا مذاق اڑایا گیا ، ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا ، ان لوگوں نے اپنے آپ کو بے نقاب کردیا بتا دیا کہ یہ یہودیوں کے حامی ہیں ،ان کاکہناتھا کہ دینی مدارس کے حوالے سے بات کی گئی ان کو بند کرنے کی بات ہورہی ہے ، فلسطین کی آزادی اور مدارس کی ایک ہی جنگ ہے ، مدارس کے حوالے سے قوانین پر عملدارآمد چاہے ،اگرعمل درآمد نہیں کیا جاتا تو ہم عمل دارآمد کروانے کے لیے نکلیں گے ۔
ان کاکہناتھا کہ ہم نے حکمرانوں کے لیے اقتدار کے محل جہنم بنا دیئے تھے ، تمہارے لیے بھی یہ اقتدار جہنم کا گڑھا بنا دیں گے ، فلسطین اور دینی مدارس کے بقا کی جنگ لڑیں گے ۔