29 ستمبر کو زبردستی کاروبار اور سڑکیں بند کرنیوالوں کیساتھ سختی سے نمٹا جائیگا، وزیراعظم آزاد کشمیر
Stay tuned with 24 News HD Android App
(اویس کیانی) وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انورارلحق کا کہنا ہے کہ شٹر ڈاون ہڑتال کے معاملہ پر ایکشن کمیٹی کی سفارش پر 13 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے،90 فیصد مطالبات منظوری کے بعد بھی ایکشن کمیٹی کشمیری نوجوانوں کو سڑکوں پر لانے کیلیے بضد ہے ،زبردستی کاروبار اور سڑکیں بند کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا ۔
تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر میں 29 ستمبر کو شٹر ڈاون ہڑتال کے تناظر میں وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انورارلحق نے 24 نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ایکشن کمیٹی کی سفارش پر 13 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے ،90 فیصد مطالبات منظوری کے بعد بھی ایکشن کمیٹی کشمیری نوجوانوں کو سڑکوں پر لانے کیلیے باضد ہیں، ایکشن کمیٹی نے جو مانگا تھا اس پر حکومت پاکستان نے 3 روپے بجلی اور 2000 روپے من آٹا کر دیا جو تاریخی پیکج ہے، آزاد کشمیر اسمبلی سے مہاجرین کی سیٹیں ختم کرنے کا بھارتی ایجنڈا منظور نہیں ہو گا ،مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ کسی بھی کشمیری کا مطالبہ نہیں ہو سکتا ۔ انہوں نےمزید کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کیلیے ایک ہی مشورہ ہے کہ وہ سیاسی جماعت بن کر اسمبلی میں آئیں اور الیکشن لڑیں ،عوامی حقوق کے نام پر پر تشدد مظاہرے اور ان کے نتیجے میں جانی نقصان کے ذمہ دار یہی لوگ ہوں گے ،زبردستی کاروبار اور سڑکیں بند کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا ،کشمیری وزراء کی مراعات چاروں صوبوں سے کم ہیں ،آزاد کشمیر میں اس وقت وزراء کی مراعات ڈیڑھ لاکھ سے 2 لاکھ 10 ہزار روپے تک کی ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں:عجب محبت کی غضب کہانی۔۔آنٹی کہہ کر بلانے والے لڑکے کی کلاس فیلو کی ماں سے شادی