ہم جنگ سے نہیں ڈرتے، ٹرمپ کے اقدامات پورے خطے کو آگ لگا سکتے ہیں، ایرانی صدر
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے اقوام متحدہ کی جانب سے بین الاقوامی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کو غیر منصفانہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے ایران پر اقتصادی اور فوجی پابندیوں کا اطلاق آج رات سے ہو رہا ہے، ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین 2016 میں جوہری پروگرام پر معاہدہ ہونے کے بعد ایران پرعائد پابندیاں اُٹھالی گئی تھیں۔
برطانیہ فرانس اور جرمنی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو آگاہ کیا تھا کہ ایران معاہدے کے تحت عائد کی گئی شرائط کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس کے بعد اقوام متحدہ نے ایران کو معاہدے پر عمل پیرا ہونے کے لیے 30 دن کا وقت دیا تھا۔
نیویارک میں جنرل اسمبلی کے موقع صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایرانی صدر نے بیرونی طاقتوں پر الزام عائد کیا کہ وہ خطے کو آگ میں ڈالنے کے لیے بہانے تلاش کر رہے ہیں، ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے دستبردار نہیں ہو رہا ہے۔
امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ ہم جنگ سے نہیں ڈرتے، ہم جنگ کے خواہاں نہیں ہیں، صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت امن قائم کرنے آئی ہے، لیکن وہ جو راستہ اختیار کر رہے ہیں وہ پورے خطے کو آگ لگا دے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے کبھی جنگ شروع نہیں کی، نہ ہی کبھی کرے گا لیکن جو بھی ہم پر حملہ کرے گا، ہم پوری قوت سے جواب دیں گے، ہم اپنی صلاحیتوں میں روز بروز اضافہ کرتے رہیں گے تاکہ کوئی ہمیں نقصان نہ پہنچا سکے۔
ڈاکٹر مسعود نے کہا کہ دشمن نے ہم پر حملہ اس لیے کیا کہ ہمیں بھی دوسروں کی طرح شہید کر سکیں، ہم موت اور شہادت سے نہیں ڈرتے، ہم اپنی زندگیاں جی چکے ہیں، میں اپنی زندگی جی چکا ہوں۔
اسرائیلی حملے میں زخمی پاؤں کے بارے میں کہا کہ یہ کوئی خاص بات نہیں تھی، گھٹنے کے حصے میں خون جمع ہو گیا تھا، ہم نے وہ نکال دیا اور اس کے بعد سب ٹھیک ہو گیا۔
ایران نے جوہری پروگرام اور پابندیوں سے متعلق ایک بڑی پیشرفت میں جرمنی، فرانس اور برطانیہ میں تعینات اپنے سفیروں کو فوری طور پر واپس بلا لیا۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق یہ فیصلہ تینوں یورپی ممالک کی جانب سے ’’ٹرگر میکانزم‘‘ فعال کرنے کے ردعمل میں بطور احتجاج کیا گیا۔