لاہور کا نیا تھیٹر۔۔۔۔شبستان کی نئی روشنی اور تھیٹر کی پرانی مشکلات
تحریر ۔۔۔۔زین مدنی حسینی
Stay tuned with 24 News HD Android App
شہرِ لاہور… جسے ثقافت کا گڑھ کہا جاتا ہے، جہاں لالی ووڈ کے سنہری دور نے جنم لیا، جہاں تھیٹر نے اپنی اصل پہچان پائی۔ اسی لاہور میں اب ایک نئے تھیٹر کی آمد ہونے جا رہی ہے۔شبستان تھیٹر۔ یہ وہی شبستان ہے جو کبھی سنگل سکرین سینما ہوا کرتا تھا، فلم بینوں کا مرکز، مگر اب اسے ایک نئی زندگی ملنے والی ہے۔
شبستان کی ازسرِنو تعمیر اور اسے تھیٹر کے روپ میں بدلنے کا کارنامہ معروف پروڈیوسر حاجی محمد یوسف نے سرانجام دیا ہے۔ یہ وہی پروڈیوسر ہیں جنہوں نے ماضی میں شبستان کے جڑواں سینما پرنس سینما کو تبدیل کرکے پرنس تھیٹر بنایا تھا، جو آج لاہور کے سرگرم تھیڑز میں شمار ہوتا ہے۔ اب وہی تسلسل برقرار رکھتے ہوئے حاجی محمد یوسف نے شبستان سینما بھی ٹھیکے پر لے لیا ہے اور اسے جدید ترین تھیٹر کی شکل دے دی ہے۔تزئین و آرائش تقریباً مکمل ہے، جدید لائٹنگ، آواز کا بہترین نظام، وسیع سٹیج اور آرام دہ نشستوں کے ساتھ شبستان تھیٹر پانچ دسمبر سے باقاعدہ ڈرامے شروع کر دے گا۔ اس کا آغاز، بلاشبہ، لاہور کے تھیٹر ڈھانچے میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو سکتا ہے۔لاہور کا تھیٹر جہاں ایک طرف نئے سٹیج حاصل کر رہا ہے، وہیں دوسری طرف بے شمار مسائل کی زد میں ہے۔حکومت کی جانب سے لگائی گئی مختلف پابندیوں نے تھیٹر کا مزاج ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ اداکاراؤں پر مسلسل پابندیاں لگ رہی ہیں، کبھی ایک ماہ، کبھی دو ماہ کی روک۔۔۔ جس سے نہ صرف اداکارائیں متاثر ہوتی ہیں بلکہ پروڈیوسرز کے منصوبے بھی ڈگمگا جاتے ہیں۔مانیٹرنگ کا نظام اس قدر سخت ہو چکا ہے کہ سٹیج پر معمولی غلطی بھی شو رکوانے کا باعث بن جاتی ہے۔ فنکار کہتے ہیں کہ تخلیقی آزادی سمٹ رہی ہے اور ماحول خوفزدہ بنا دیا گیا ہے۔ ایسے حالات میں تھیٹر کے فروغ کی بات کرنا مشکل ضرور ہے، ناممکن نہیں۔کیونکہ لاہور کا تھیٹر ہمیشہ دباؤ میں بھی زندہ رہا ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ پابندیوں اور مشکلات کے باوجود لاہور میں پرائیویٹ تھیٹرز کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
ایک وقت تھا جب شہر میں چند ہی نجی تھیٹر ہوتے تھے، مگر اب یہ تعداد بڑھ چکی ہے، اور مزید بڑھ رہی ہے۔ اس اضافہ سے نہ صرف مقابلہ بڑھا ہے بلکہ سب سے اہم بات یہ کہ روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو رہا ہے۔
نئے تھیٹرز کے قیام سے اداکار، ٹیکنیشنز، کریو ممبرز، موسیقار، ڈانسرز اور رائٹرز کے لیے نئی جگہیں پیدا ہو رہی ہیں۔ پابندیوں کے ماحول میں بھی فنکار کام ڈھونڈ لیتے ہیں… کیونکہ لاہور کی سٹیج کمیونٹی کا جذبہ ہمیشہ مضبوط رہا ہے
شبستان تھیٹر کا افتتاح ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب لاہور کا تھیٹر حکومتی پابندیوں، مالی مشکلات اور سخت مانیٹرنگ سے گزر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اس نئے تھیٹر کا آغاز اس بات کا اشارہ ہے کہ سٹیج فنکار ابھی بھی ہار نہیں مان رہے۔
لاہور، جو کبھی فلموں کا مرکز تھا اور آج تھیٹر کا گڑھ ہے، ایک بار پھر ثابت کر رہا ہے کہ فن کو روکنا ممکن نہیں۔راستہ خود نکال لیتا ہے۔شبستان تھیٹر شاید اسی نئے راستے کا نام ہے۔
یہ بھی پڑھیں:میرے سامنے پنجاب میں ملزمان کو ڈھول بجا کر ہیرو بنا کر پیش کیا گیا، شیری رحمان