بغیر مقررہ طریقہ کار کے پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام ڈالنا غیرقانونی قرار

Jun 27, 2026 | 12:39:PM
  بغیر مقررہ طریقہ کار کے پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام ڈالنا غیرقانونی قرار
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

( احتشام کیانی ) اسلام آباد ہائیکورٹ نے بغیر مقررہ طریقہ کار کے پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام ڈالنے کو غیرقانونی قرار دے دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے میں کہاگیاہے کہ کسی پرسفری پابندیاں قانونی اتھارٹی اور مقررہ طریقہ کار کے بغیر عائد نہیں کی جا سکتیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نےدرخواست گزار شہری زین عتیق کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ جولائی 2022 میں ترکیہ سے ڈی پورٹ کرنے پر شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ ڈالا گیا، شہری کی درخواست پر ایف آئی اے نے دو سال سے زائد عرصہ ہونے کی بنا پر نام پی سی ایل اے سے نکالنے کی سفارش کی۔
 عدالت نے فیصلے میں کہاکہ پاسپورٹ اتھارٹی نے شہری کی پی سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست عدم پیروی پر خارج کر دی،غیرقانونی انٹری یا کسی اور ممنوعہ فعل سے ڈی پورٹ کئے شخص کو بغیر اتھارٹی کی منظوری کے غیر معینہ مدت تک پی سی ایل پر نہیں رکھا جا سکتا۔
فیصلے کے مطابق ریکارڈ سے یہ ظاہر نہیں ہوتا  کہ کسی اتھارٹی نے یہ طے کیا ہو کہ درخواست گزار کا نام پی سی ایل پر رکھا جائے،ریکارڈ میں ایسا کچھ موجود نہیں کہ پاکستان یا ترکی میں اس کے خلاف کوئی سزا یا زیرِالتوا فوجداری مقدمہ موجود ہے،کسی اتھارٹی سے طے نہ ہونے کی صورت میں درخواست گزار کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں برقرار نہیں رہ سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت صارفین تک کوئی بھی فائدہ پہنچانے کیلئےپُرعزم ہے؛وفاقی وزیر پیٹرولیم
فیصلے میں مزیدکہاگیاکہ شیریں مزاری کیس میں قرار دیا گیا شہری پر سفری پابندیاں صرف قانونی اتھارٹی اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق ہی عائد کی جا سکتی ہیں،موجودہ کیس میں حکام اس حوالے سے قانونی تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہے، درخواست گزار کے خلاف کوئی فوجداری کارروائی زیرِالتواء نہیں،نہ ہی کسی مجاز عدالت سے کوئی سزا کا ریکارڈ پر ہے، درخواست گزار کے خلاف نہ ہی کوئی اور قانونی بنیاد موجود ہے جو پابندی کو جاری رکھنے کا جواز فراہم کرے۔