جنگ بندی کے باوجود ڈیزل مارکیٹ میں تیزی برقرار، ریفائنریز کے منافع میں ریکارڈ اضافہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک )امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے ابتدائی معاہدے اور آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے باوجود عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمتوں اور سپلائی میں تناؤ برقرار ہے۔
حالیہ اعدادوشمار کے مطابق، امریکی ڈیزل ریفائننگ کا منافع تین ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خام تیل کے مقابلے میں ڈیزل کی مانگ اور قیمتیں اب بھی بہت زیادہ ہیں۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ رواں ماہ خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 22 فیصد کی بڑی کمی دیکھی گئی ہے، لیکن اس کے برعکس ڈیزل کی قیمتوں میں صرف 9 فیصد کی معمولی گراوٹ آئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ مارکیٹ میں ڈیزل کے ذخائر کی شدید کمی ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کے مطابق اس وقت ڈیزل کے ذخائر پانچ سالہ اوسط سے 12 ملین بیرل کم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:قیمتوں میں پھر بڑا ردوبدل۔۔!سونے کا نیا ریٹ جان کر حیران رہ جائیں گے
اس کے ساتھ ساتھ یوکرین کے ڈرون حملوں کی وجہ سے روسی ریفائنریز کو پہنچنے والے نقصان اور بحیرہ عرب میں سیکیورٹی کے خدشات نے ڈیزل کی عالمی سپلائی کو مزید دباؤ میں ڈال رکھا ہے۔
ماہرین کے مطابق، تاجر اب بھی محتاط ہیں کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال کسی بھی وقت دوبارہ کشیدہ ہو سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ خام تیل سستا ہونے کے باوجود عام صارفین تک ڈیزل کا ریلیف پہنچنے میں وقت لگے گا۔