شرح سود کو بلند رکھ کر بوم اینڈ بسٹ سائیکل کو روکنا ناقص پالیسیوں کی بنیاد ہے; گوہر اعجاز  

Jun 27, 2025 | 16:33:PM
شرح سود کو بلند رکھ کر بوم اینڈ بسٹ سائیکل کو روکنا ناقص پالیسیوں کی بنیاد ہے; گوہر اعجاز  
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے بوم بسٹ سائیکل کی غلط فہمی سے متعلق حقائق پیش کر دیئے۔

گوہر اعجاز کا کہنا ہے کہ ماضی میں بوم اینڈ بسٹ سائیکل عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے آیا، شرح سود کو بلند رکھ کر بوم اینڈ بسٹ سائیکل کو روکنا ناقص پالیسیوں کی بنیاد ہے ،غلط فہمی دور کرنے کے لیے ڈیٹا کو دیکھا جائے ۔
گوہر اعجاز نے بوم اینڈ بسٹ سائیکل سے متعلق حقائق بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ شرح سود کو کم رکھ کر بوم اینڈ بسٹ سائیکل کو روکنا غلط فہمی اور ناقص پالیسیوں کی بنیاد ہے ، 2018 سے 2022 کے بوم بسٹ سائیکل کم شرح سود اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی درآمدات بڑھنے سے بوم بسٹ سائیکل نہیں آئے بلکہ یہ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث آئے ہیں۔

سابق وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ بلند شرح سود کی وجہ سے 3 ٹریلین روپے مقامی قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہورہے ہیں، 50 فیصد بجٹ اخراجات شرح سود کو کم رکھ کر بوم اینڈ بسٹ سائیکل کو روکنے پر خرچ ہو رہے ہیں،  گوہر اعجاز نے کہا کہ 2018 سے 2022 تک عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے باعث کرنٹ اکاونٹ خسارہ ہوا، 2018 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 37 ارب ڈالرز ریکارڈ کیا گیا ،2018 میں سی پیک منصوبوں کی درآمدات بڑھنے سے تجارتی خسارہ بڑھا، اس دوران ملکی برآمدات اور ترسیلات زر میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

 گوہر اعجاز نے کہا کہ 2021-22 میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 17.4 ارب ڈالرز ریکارڈ کیا گیا 2021-22 میں پاکستان نے کرونا ویکسین کی بڑی مقدار درآمد کی اس دوران روس یوکرین جنگ کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوئیں 2022 میں پاکستانی روپے کی قدر 30 فیصد کم ہوئی 2022 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 47 ارب ڈالرز ریکارڈ کیا گیا اس دوران مہنگی انرجی کی وجہ سے ٹیکسٹائل برآمدات سست روی کا شکار رہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بینکوں سے لین دین کرنے والوں کیلئے اہم خبر