سپین کی سوشلسٹ حکومت کا پانچ لاکھ غیرقانونی امیگرینٹس کو قانونی حیثیت دینے کا اعلان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ قانونی امیگرنٹس کو بھی دھکے دے کر امریکہ سے نکالنے کے درپے ہیں لیکن اس کے برعکس یورپی ملک سپین نے بیک وقت 5 لاکھ غیرقانونی امیگرنٹس (تارکین وطن) کو قانونی حیثیت دینےکا اعلان کر دیا ہے۔
سپین کے دارالحکومت میڈرد سے یہ خبر آئی ہے کہ حکومت نے 5 لاکھ غیر دستاویزی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینےکا فیصلہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سپین کی وزیر برائے مائیگریشن ایلماسیز نےکہا ہے کہ حکومت ایک حکم کی منظوری دینے جارہی ہے جس کے تحت تقریباً 5 لاکھ غیر دستاویزی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دی جائے گی۔
قانونی حیثیت حاصل کرنے والےتارکین وطن کی تعداد کم یا زیادہ بھی ہوسکتی ہے، اس فیصلے سے مستفیض ہونے والے افرادملک کے کسی بھی حصے میں اور کسی بھی شعبے میں کام کر سکیں گے۔
ایلماسیز نے کہا کہ حکومت امیگریشن کا نظام ایسا بنانے جارہی ہے جو انسانی حقوق، معاشرے میں شمولیت، باہمی ہم آہنگی، معاشی ترقی اور سماجی اتحاد کے مطابق ہو۔
یہ اقدام یورپ کے دیگر حصوں میں سخت پالیسیوں کے برعکس اسپین کا تازہ فیصلہ ہے۔ دسمبر کے دوسرے ہفتے یہ خبریں آئی تھیں کہ سپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز امیگریشن کے معاملہ پر یورپ کے بیشتر ملکوں کی نئی پالیسیوں اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگرنٹس کے خلاف متشدد کیمپین کے دوران بالکل الگ کھڑے ہیں۔ اب ان خبروں کی تصدیق ہو رہی ہے اور پرائم منسٹر پیڈرو سانچیز اپنے خیالات کو عملی جامہ پہناتے ہوئے بیک وقت پانچ لاکھ غیر قانونی امیگرنٹس کو سپینش سوسائٹی میں برابر کا شہری بنا رہے ہیں۔
یورپ میں انتہائی دائیں بازو کی پاپولزم میں اضافے اور ٹرمپ انتظامیہ کے متشدد رویہ کے درمیان زیادہ تر یورپی رہنماؤں کی جانب سے امیگریشن کے بارے میں سخت سے سخت بات کرنے کا رجحان چل رہا ہے۔ یہ تصور جڑ پکڑ رہا ہے کہ جب تک وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے ہیں تب تک یورپی ملکوں کو اپنی "تہذیب مٹ جانے" کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس پس منظر میں سپین کے امیگریشن منسٹر کے اعلان کو دلچسپی اور حیرت سے دیکھا جا رہا ہے۔
غیر قانونی تارکین کی لیگلائزیشن سے کون فائدہ اٹھا سکےگا؟
پرائم منسٹر پیڈرو سانچیز کی حکومت کے اس فیصلے سے وہ افراد فائدہ اٹھا سکیں گے جو 5 ماہ سےیا اس سے زیادہ عرصہ سے سپین میں ہیں۔درخواست دینے والوں کا کوئی جرائم کا ریکارڈ نہیں ہونا ضروری ہوگا، یہ فیصلہ ان کے ان بچوں پر بھی لاگو ہوگا جو پہلے ہی سپین میں رہائش پذیر ہیں۔
لیگلائزیشن کے لئے درخواستیں جمع کرانے کا عمل اپریل میں شروع ہونے کی توقع ہے اور جون کے آخر تک جاری رہےگا۔
ایک انترنیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق اس منصوبے کو ایک سرکاری فرمان کے ذریعے نافذ کیا جائے گا، جس کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری ضروری نہیں ہوگی، کیونکہ سوشلسٹ قیادت والی اتحادی حکومت کے پاس اس وقت پارلیمنٹ میں قانون سازی کے لئے درکار اکثریت نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: پی ٹی آئی کے بانی سے آج بھی کسی کی ملاقات نہیں ہوئی
قدامت پسند اور دائیں بازو کی اپوزیشن جماعتوں نے اس فیصلے کے سبب پیڈرو سانچیز کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے سپین میں غیر قانونی امیگریشن میں اضافہ ہوگا۔
وزیراعظم پیڈرو سانچیز کا اللیگل امیگرنتس کو سپینش سوسائٹی میں جذب کرنے کی پالیسی کے متعلق کئی جہتوں میں مضبوط آرکیومنٹ موجود ہے۔ سانچیز کہتے ہیں کہ سپین کو افرادی قوت کی کمی پوری کرنے اور بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ native آبادی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے امیگریشن کی ضرورت ہے۔ ان کا انسانی حقوق کے حوالے سے نکتہِ نظر بھی اس پالیسی کو سپورٹ کرتا ہے جس پر اب وہ عملدرآمد کر رہے ہیں۔
ایک تھنک ٹینک فنکاس کے مطابق جنوری 2025 کے آغاز میں سپین میں تقریباً 8 لاکھ 40 ہزار غیر قانونی تارکین وطن مقیم ہیں، جن میں زیادہ تر لاطینی امریکی ملکوں سے آئے ہیں۔
سپین کے قومی ادارہ شماریات کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق سپین کی 4 کروڑ 94 لاکھ کی کل آبادی میں سے 70 لاکھ سے زائد غیر ملکی مہاجر ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہنےکاامکان