مشتہر اسامیوں پر بھرتی کے خواہشمند حاضر سروس سرکاری ملازمین پر اہم شرط عائد
Stay tuned with 24 News HD Android App
(بابر شہزاد تُرک)فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی مشتہر اسامیوں پر بھرتی کے خواہشمند حاضر سروس سرکاری ملازمین پر فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے اہم شرط عائد کر دی.
سوشل میڈیا پر بعض امیدواروں کی طرف سے تحفظات کے اظہار کے بعد فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے پبلک نوٹس جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حاضر سروس سرکاری ملازمین کیلئے کمیشن کی جانب سے مشتہر کسی بھی آسامی پر آن لائن درخواست جمع کرانے سے قبل اپنے متعلقہ محکمے سے ڈیپارٹمنٹل پرمیشن سرٹیفکیٹ (DPC) یا نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (NOC) حاصل کرنا لازمی ہے۔
ایف پی ایس سی کی جانب سے جاری پبلک نوٹس میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بعض امیدواروں کی طرف سے اس شرط سے متعلق اظہارِ تشویش سامنے آیا تھا، جس کے بعد کمیشن نے وضاحت جاری کی ہے، نوٹس کے مطابق یہ شرط گورنمنٹ سرونٹس (اپلیکیشن فار سروسز اینڈ پوزیشنز) رولز 1966 کے رول 3(1) کے تحت عائد ہے، جس میں سرکاری ملازمین کو کسی بھی نئی آسامی کیلئے درخواست دینے سے قبل اپنے محکمے سے پیشگی اجازت حاصل کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سیمی فائنل کھیلنا ہے توسری لنکا کو کتنے مارجن سے ہرانا ہوگا؟جانیے
کمیشن نے واضح کیا کہ مذکورہ قواعد ایف پی ایس سی نے وضع نہیں کیے بلکہ بطور آئینی ادارہ وہ ان پر ان کی اصل روح اور منشاء کے مطابق عمل درآمد یقینی بنانے کا پابند ہے، اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کمیشن اس معاملے میں لاگو قانونی فریم ورک کی سختی سے پاسداری کرے گا، ایف پی ایس سی کے مطابق ان قواعد پر فوری طور پر عمل درآمد شروع نہیں کیا گیا تھا، کمیشن نے اپنے 174ویں اجلاس، منعقدہ 3 جون 2025 میں اس قاعدے پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا، اس فیصلے سے متعلق پیشگی اطلاع یکم اگست 2025 کو کمیشن کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی، جبکہ باقاعدہ عمل درآمد یکم ستمبر 2025 سے شروع کیا گیا۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ کمیشن کے پاس ان قواعد میں ترمیم، نرمی یا استثناء دینے کا اختیار نہیں، قواعد پر نظرثانی، ترمیم یا تشریح کا اختیار ان کے مجاز نگران ادارے کو حاصل ہے جو ان کی تشکیل اور انتظام کا ذمہ دار ہے، ایف پی ایس سی نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ ایسے سرکاری ملازمین جو مطلوبہ اجازت نامہ حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا کریں، وہ مناسب قانونی طریقہ کار کے تحت اپنے متعلقہ محکمے یا اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے رجوع کریں، کمیشن نے بھرتیوں کے تمام مراحل میں میرٹ، شفافیت اور قابل اطلاق قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری کے عزم کا اعادہ بھی کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مولانا فضل الرحمان کو بڑا دھچکا ، قومی اسمبلی کی نشست سے ہاتھ دھو بیٹھے