بچوں کو بچانے کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی؛ انگلینڈ میں پالیسی شفٹ پر آئندہ ہفتےغورہوگا

Feb 27, 2026 | 16:26:PM
انگلینڈ، کئیر سٹارمر ، یورپی یونین، آسٹریلوی بچے, 16 سال سے کم عمر کے بچے, سوشل میڈیا پر پابندی, بچوں کے لیے کوئی سوشل میڈیا نہیں, 24 نیوز England, Keir Starmer , EU, Australian kids, kids under 16, banning social media, no social media for kids, 24 News
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) ترقی، جمہوریت اور آزادیوں کا باپ سمجھا جانے والا انگلینڈ بچوں کے "سوشل میڈیا" استعمال کرنے پر پابندی لگا رہا ہے۔ لیبر پارٹی کی حکومت آئندہ ہفتے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی لگانے کے معاملہ پر اہم مشاورت کرنے جا رہی ہے  اور بتایا جا رہا ہے کہ پی ایم سٹارمر پابندی لگانے کی حمایت کریں گے۔

انگلینڈمیں 16 سال سے کم عمر بچوں کے "سوشل میڈیا"  کہلانے والی کئی ویب سائٹس استعمال کرنے پر پابندی کی تجویز اب میٹیریلائز ہونے جا رہی ہے۔ کئیر سٹارمر حکومت کے وزرا  آئندہ ہفتے اس پالیسی پر باقاعدہ مشاورت (کنسلٹیشن) شروع کرنے جا رہے ہیں۔  

حکومت کے ذرائع نے خود بتایا ہے کہ پرائم منسٹر کیئر سٹارمر اس اقدام کی حمایت کرنے کی طرف جا رہے ہیں۔

اس سے پہلے آسٹریلیا میں  10 دسمبر 2025 کو  لیبر پارٹی کی حکومت نے اپنے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی کا قانون نافذ کیا جس کے نتیجہ میں فوری طور پر  35 لاکھ آسٹریلین بچے سوشل میڈیا کہلانے والی کئی ویب سائتس سے نکل گئے اور ویب سائتس پر سخت جرمانوں کے ساتھ یہ پابندی عائد ہو گئی کہ اب وہ کسی  16 سالکے آسٹریلین بچے کو اپنی ویب سائٹ پر آنے نہیں دیں گے۔

آسٹریلیا کے بعد یورپی یونین نے سولہ سال عمر کے بچوں کو سوشل پلیٹ فامرز پر پھیلائے جا رہے زہر سے بچانے کے لئے بہت سنجیدگی سے کوشش کی جو یورپ کے تمام ملکوں میں سولہ سالہ بچوں کے سوشل پلیٹ فارمز استعمال  کرنے پر پابندی کا  قانون بنانے کی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

انگلینڈ کی ٹیکنالوجی کی وزیر لِز کینڈل آئندہ ہفتے مشاورتی عمل کی ٹرمز اینڈ کنڈیشنز جاری کریں گی۔ اس عمل میں مختلف آپشنز پر غور کیا جائے گا، جن میں سوشل میڈیا استعمال کرنے کے لئے عمر کی حد  16 سال سے زیادہ مقرر کرنا شامل ہے۔

کئیر سٹارمر حکومت کے زیر غور  مکمل پابندی کے آپشن کے ساتھ نسبتاً نرم اقدامات بھی رہے ہیں لیکن سٹارمر پابندی ہی کے حق میں ہیں۔ نرم اقدامات میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر انفینیٹ سکرولنگ (مواد کو مسلسل سکرول کرنے) پر قدغن لگانا، جسے اب ہر عمر کے لوگوں کے لئے ایک ایڈکشن کی حیثیت سے مانا جا رہا ہے۔ 

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اب تک دنیا مین سامنے آنے والی "نرم اقدامات" کی تجویزیں ٹیک کمپنیوں کے زیر اثر  دکھائی دیں۔ مکمل پابندی کے بجائے "بہتر ضابطہ بندی" اور "والدین کی نگرانی" جیسی تجویزوں نےترقی یافتہ معاشروں میں حکومتوں کو کچھ عرصہ سے الجھا رکھا ہے لیکن ان میں سے کوئی بھی تجویز بچوں کو  سنگین نوعیت کے نقصانات اور خطرات سے بچاتی نہیں ہے اور سوال "بچوں کو بچانا" ہے۔ 

آسٹریلیا میں نرم اقدامات کے متعلق گزشتہ سال کئی مہینوں تک رہی لیکن لیبر پارٹی کی حکومت مکمل غیر لچکدار پابندی کی طرف گئی اور پارلیمنٹ نے اس قانون کی مکمل حمایت کی کیونکہ آسٹریلین والدین اس اقدام کی حمایت کر رہے ہیں۔

انگلینڈ میں پرائم منسٹر کئیر سٹارمر کی حکومت کا ماننا ہے کہ بچوں کو آن لائن مضر مواد اور ذہنی صحت پر منفی اثرات سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

مشاورتی عمل کے بعد حتمی پالیسی کا اعلان متوقع ہے۔اس پالیسی شفٹ سے انگلینڈ میں سوشل میڈیا کے استعمال کے قوانین میں تو تبدیلی آئے گی ہی، اس سے برٹش معاشرے میں گہری تبدیلیاں آئیں گی اور اس کے ساتھ سوشل پلیٹ فارم کہلانے والی بہت بڑی کمپنیوں کے کاروبار پر بہت ہولناک اچرات مرتب ہوں گے اور انہیں سوشل پلیٹ فارمز کو محفوظ جگہ بنانے کے لئے شدید نوعیت کی تبدیلیوں کی طرف جانا پڑے گا۔