سابق وزیر گوہر اعجاز کا سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد کے انتقال پر اظہار افسوس
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا، گوہر اعجاز نے ڈاکٹر شمشاد اختر کے لواحقین سے دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے پاکستان کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔
انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے ملکی معیشت کو سنبھالنے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے، نگراں دور میں ڈاکٹر شمشاد اختر کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، گوہر اعجاز کے مطابق ڈاکٹر شمشاد اختر کے لیے پاکستان ہی سب کچھ تھا، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے 2 جنوری 2006ء کو بینک دولت پاکستان کی 14 ویں گورنر کا عہدہ سنبھالا، وہ تین سال کے لیے تعینات ہوئیں۔ وہ اسٹیٹ بینک کی پہلی خاتون گورنر ہیں۔ انہیں بینکاری کا قومی اور بین الاقوامی وسیع تجربہ حاصل رہا۔
گورنر اسٹیٹ بینک تقرر سے قبل وہ ایشیائی ترقیاتی بینک سے بطور ڈائریکٹر جنرل، شعبہ جنوب مشرقی ایشیا وابستہ تھیں اور اس عہدے پر جنوری 2004ء سے کام کر رہی تھیں۔ قبل ازیں وہ اس شعبے کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل تھیں۔ وہ ایشیائی ترقیاتی بینک میں ڈائریکٹر، نظم و نسق، مالیات اور تجارت ڈویژن برائے مشرقی اور وسط ایشیا کے عہدے پر بھی فائز رہیں۔
شمشاد اختر نے ایشیائی ترقیاتی بینک میں اپنے کیریئر کا آغاز 1990ء میں کیا اور مالی شعبے میں بطور سینئر اور مرکزی اسپیشلسٹ خدمات انجام دینے کے بعد 1998ء میں وہاں منیجر بن گئیں۔ وہ 1998ء سے 2001ء تک ایشیائی ترقیاتی بینک کی کوآرڈی نیٹر برائے اپیک وزرائے خزانہ گروپ بھی رہیں۔
انہوں نے بینک کی کئی کمیٹیوں میں خدمات انجام دیں جن میں تنظیمِ نو کمیٹی، اپیلز کمیٹی اور نگراں کمیٹی وغیرہ شامل ہیں، بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹ اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف سیکورٹیز کمیشن (آئی او ایس سی او) میں ایشیائی بینک کی طرف سے مکالمہ کیا اور نمائندگی کی۔
ڈاکٹر شمشاد نے وسط ایشیائی ریاستوں اور جنوب مشرقی ایشیا بشمول عوامی جمہوریہ چین کے مالی و اقتصادی امور پر وسیع مہارت حاصل کی ہے۔
ایشیائی بینک آنے سے قبل شمشاد اختر نے پاکستان میں عالمی بینک کے ریذینٹ مشن کے ساتھ بطور ماہر معاشیات دس سال کام کیا۔ وہ وفاقی اور سندھ حکومت دونوں میں محکمہ منصوبہ بندی کے ساتھ کچھ عرصہ منسلک رہیں۔
انہوں نے مختلف النوع موضوعات پر کام کیے جن میں اقتصادی صورتحال کا تجزیہ، مالیات اور زر، اور صنعت و زراعت سمیت کلیدی شعبوں کی ساختی اصلاحات شامل ہیں۔ انہوں نے ان موضوعات پر مقالات بھی تحریر کیے، پاکستان میں نظام آبکاری، حکومتوں کے مابین مالیاتی تعلقات کی صورتحال، غربت اور اس کی جہتیں، اور براہ راست بیرونی سرمایہ کاری، وغیرہ۔
ڈاکٹر شمشاد نے مالی منڈیوں میں تنوع لانے میں بھی اپنا کردار ادا کیا جن میں زری پالیسی اور صنعت بینکاری کی کیفیت کا تجزیہ )عالمی بینک میں(، سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی تشکیل نو، انشورنس کمیشن کی تشکیل نو شامل ہے، پاکستان کے اسٹاک ایکسچینج سمیت نجی اداروں کے ساتھ بھی قریب رہ کر کام کیا۔
مالی منڈیوں کی اصلاحات پر وہ مرکزی بینکوں کو مشاورت فراہم کرتی رہی ہیں،وہ شعبہ بینکاری کی قانونی، ضوابطی اور ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق رہنے کے علاوہ بانڈ مارکیٹ کے فروغ کے ذریعے طویل مدتی رقوم کے استعمال سے بینکاری صنعت میں تنوع لانے پر بھی مشاورتی خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔
حیدر آباد میں پیدا ہونے والی شمشاد اختر نے ابتدائی تعلیم کراچی اور اسلام آباد میں حاصل کی۔ ان کا تعلیمی ریکارڈ شاندار رہا۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے 1974ء میں بی اے اکنامکس، اور قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم ایس سی اکنامکس کیا۔
انہوں نے یونیورسٹی آف سسیکس سے 1977ء میں ڈیولپمنٹ اکنامکس میں ایم اے، اور برطانیہ کے پیسلے کالج آف ٹیکنالوجی سے 1980ء میں معاشیات میں ڈاکٹریٹ کیا۔ وہ فلبرائٹ اسکالر )پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ( ہیں اور 1987ء میں ہارورڈ یونیورسٹی میں شعبہ معاشیات کی وزٹنگ فیلو رہیں۔
ڈاکٹر شمشاد اختر نے بین الاقوامی کانفرنسوں/ سیمیناروں/ سمپوزیم میں معاشیات اور مالیات پر متعدد مقالات پیش کیے ہیں۔ تحقیق میں ان کی دلچسپی کا خاص میدان زری و مالیاتی پالیسی، بینکاری اور سرمایہ منڈی، بین الاقوامی مالیاتی ساخت، ضوابط اور نگرانی، اور صنعتی و کارپوریٹ ری اسٹرکچرنگ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:تحریک احیائے اردوادب کے زیراہتمام’’احتشام حسن خان کے ساتھ ایک شام‘‘