بھارتی آبی جارحیت،سیلابی ریلوں نےتباہی مچادی، ستلج ،راوی اورچناب بپھرگئے

ستلج میں گنڈاسنگھ والا کےمقام پر اونچے درجے کاسیلاب ،کمشنرزاورڈپٹی کمشنرز کوالرٹ جاری کردیاگیا

Aug 27, 2025 | 08:25:AM
بھارتی آبی جارحیت،سیلابی ریلوں نےتباہی مچادی، ستلج ،راوی اورچناب بپھرگئے
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(علی رامے،یاسر عرفات،میاں اشفاق،سیدتنویرنقوی)بھارت سے آنےوالے سیلابی ریلوں نےتباہی مچادی،دریائے ستلج ،راوی اورچناب بپھرگئے،حفاظتی بندٹوٹنے سےبستیاں ڈوب گئیں اورہزاروں افرادبےگھر ہوگئے،بھارت نے چمیرا ڈیم سے بھی بڑے پیمانے پر پانی چھوڑ دیا ہے،جس کے باعث دریائے راوی میں پانی کی آمد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔  
 بھارتی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ کشمیرریجن کےدریاؤں پربنے ڈیموں کے تمام دروازے کھول دیئے گئے ہیں اور کشمیرریجن کےدریاؤں پرڈیموں سےتقریباً 2 لاکھ کیوسک پانی چھوڑےجانےکاامکان ہے،بھارتی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ واضح نہیں کہ بھارت کی جانب سے پانی کا اخراج ایک بارہوگا یا مرحلہ وار کیا جائے گا۔ 

ستلج میں گنڈاسنگھ والا کےمقام پر اونچے درجے کاسیلاب ہے جہاں پانی کابہاؤ ایک لاکھ 96ہزارکیوسک پرپہنچ گیاہے،قصورمیں کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیاہے،ہر طرف پانی ہی پانی ہے ،لوگ گھروں کی چھتوں اوراونچے ٹیلوں پر پناہ لینے پر مجبورہوگئے ہیں۔
عارف والا اورمنچن آباد میں فصلیں زیرآب آگئیں،کئی آبادیوں کا زمینی رابطہ منقطع اوربجلی کی فراہمی بھی معطل ہوگئی،پاکپتن میں پانی حفاظتی بندوں کو توڑ کر آبادی تک پہنچ گیا جبکہ بہاولپورمیں بھی ستلج کا پانی رہائشی علاقوں میں داخل ہوگیاہے۔


بھارت نےراوی پرقائم تھین ڈیم کےتمام گیٹ بھی کھول دیئے ہیں،کوٹ نیناں سے2 لاکھ 10 ہزار کیوسک پانی راوی میں داخل ہوگیاہے جس سے جسڑ،شاہدرہ اورہیڈبلوکی میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کاخدشہ ہے،شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 60 ہزار کیوسک ہوگیاہے جس کے باعث رات کومساجد سے شہریوں کو محفوظ مقامات پر جانے کیلئے اعلانات کئے گئے،شکرگڑھ رنارروال روڈ پربھی راوی اور نالہ بئیں کا سیلابی پانی آگیاہے۔
دریائے چناب میں بھی پانی کے بہاؤ میں خطرناک حدتک اضافہ ہوگیاہے ،ہیڈمرالہ کے مقام پرانتہائی اونچے درجےکاسیلاب ریکارڈکیاگیاہے  جس کے بعد چناب میں پانی کی آمد4لاکھ 79ہزارکیوسک ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں ایکڑاراضی زیرآب آنے کاخدشہ ہے،کمشنرزاورمتعلقہ اضلاع کےڈپٹی کمشنرز کوالرٹ جاری کردیاگیاہے۔


ظفروال میں نالہ ڈیک میں شدیدطغیانی  کے باعث2پل پانی میں بہہ گئے،ظفر وال چونڈہ روڈ پرپل ٹوٹنے سے ٹریفک معطل ہوگئی اورسیکڑوں دیہات کا ظفروال شہرسےرابطہ منقطع ہوگیا،نارووال میں نالہ بسنتر کا بند ٹوٹنے سےپانی درجنوں دیہاتوں میں داخل ہوگیا اورہزاروں ایکڑ میں کاشت کی گئی چاول کی فصل زیر آب آگئی ،نالہ بسنتر میں اونچے درجے کا سیلاب ہے اورلوگوں کا زمینی رابط منقطع ہوگیا ہے ،پانی تیزی سے نارووال شہر کی طرف بڑھ رہاہے ، دریائے راوی جسڑ کے مقام پر 2 لاکھ 36 ہزار کیوسک پانی کا ریلہ گزر رہا ہے  جس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

 کرتارپور کے قریب دریائے راوی کا حفاظتی بند ٹوٹنے سے پانی گردوارے میں داخل ہوگیا،بھارتی آبی جارحیت سے شکرگڑھ میں کوٹ نیناں کےمقام پر دریائے راوی میں دو لاکھ 50ہزار کیوسک سے زائد ریلہ گزر رہا ہےجس سے بھیکو چک کےقریب حفاظتی بند میں شگاف پڑگیا،بھیکو چک ،نوشہرہ ،نوگزہ کرتار پور مین شاہراہ منڈی خیل،بھجنہ زیر آب آگئی جس سے نارووال شکرگڑھ روڈکوٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان، ٹرین سروس 2 روز معطل رہنے کے بعد آج سے بحال
دریائے ستلج میں ہائی فلڈ لیول کے باعث کنگن پور کے متعدد دیہات زیرِ آب آگئے، کوٹھی فتح محمد سمیت درجنوں دیہات متاثرہوگئے اور ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ ہوگئیں،پانی کے بہاؤ کی موجودہ صورتحال 188،810 کیوسک بتائی جا رہی ہے جبکہ دریائے ستلج میں پانی کی سطح مزید 220،000 کیوسک تک بڑھنے کا امکان ہے.

کنگن پور میں فوج اور ریسکیو 1122 کی ریسکیو سرگرمیاں بھی جاری ہیں اورلوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے.

 سیالکوٹ میں دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی سطح میں کمی واقع ہوگئی،ہیڈ مرالہ میں پانی کی آمد 9 لاکھ کیوسک سےکم ہو کر 7 لاکھ 69 ہزار کیوسک ہوگئی جبکہ پانی کا اخراج 7 لاکھ کیوسک ریکارڈکیاگیاہے۔

 ترجمان پی ڈی ایم اے نے کہاہے کہ دریائے راوی، چناب اور ستلج میں اونچے سے انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے،بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث دریاؤں کے پانی میں ریکارڈ اضافہ ہواہے،دریائے راوی میں کوٹ نینا کے مقام سے 2 لاکھ 30 ہزار کیوسک داخل ہو رہا ہے،جسڑ سے 2 لاکھ 29 ہزار سائفن سے 72 ہزار کیوسک اور شاہدرہ سے 71 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے ۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ میں پانی کا بہاؤ 9 لاکھ 22 ہزار کیوسک تک پہنچ گیاہے۔
صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق اور چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کی زیر صدارت اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں جس کے تحت  دریائے چناب اور راوی میں بریچنگ سیکشنز نہ لگانے کا فیصلہ کیاگیاہے۔
اجلاس میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع کو فوری اضافی فنڈز فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ،،چیف سیکرٹری پنجاب نے ملحقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرزکو دریائے راوی کے پاٹ سے شہریوں کے انخلاء کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔