مالی میں شدت پسندوں کے حملوں میں وزیر دفاع ہلاک

Apr 27, 2026 | 10:03:AM
مالی میں شدت پسندوں کے حملوں میں وزیر دفاع ہلاک
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک )مالی کے وزیر دفاع سادیو کامارا کے دارالحکومت بماکو کے قریب ایک بڑے حملے میں ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

 فرانسیسی نشریاتی ادارے اور ان کے قریبی رشتہ داروں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ہفتے کے روز حملے میں مارے گئے۔

رپورٹ کے مطابق حملہ کاتی کے علاقے میں کیا گیا، جو بماکو سے تقریباً 15 کلومیٹر شمال میں واقع اہم فوجی اڈا ہے۔ یہ کارروائی شدت پسند تنظیم جماعت نصرت الاسلام والمسلمین (جے این آئی ایم) نے کی، جس نے ایک طوارق اکثریتی باغی گروہ کے ساتھ مل کر مختلف علاقوں میں مربوط حملے کیے۔

 تجزیہ کاروں اور سفارتی ذرائع کے مطابق یہ حالیہ برسوں میں مالی پر ہونے والے سب سے بڑے منظم حملوں میں سے ایک ہے۔

 یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کی ایران کو سخت وارننگ،تناؤ مزید بڑھ گیا

 مالی کی وزارت دفاع اور حکومتی ترجمان نے اس معاملے پر فوری ردعمل نہیں دیا۔ فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملک کے مختلف حصوں میں باغیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مالی کے مختلف علاقوں میں حملوں پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے ان واقعات کی مذمت کی ہے۔ عالمی ادارے نے مغربی افریقہ کے ساحلی خطے میں دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی ردعمل پر زور دیا ہے۔

اگر وزیر دفاع کی ہلاکت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ مالی کی فوجی قیادت کے لیے بڑا دھچکا ہوگا۔ سادیو کامارا موجودہ فوجی حکومت کے اہم رکن تھے اور روس کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے۔

 مالی میں 2020 اور 2021 کی فوجی بغاوتوں کے بعد برسر اقتدار آنے والی حکومت نے مغربی ممالک سے فوجی تعاون کم کر کے روس کے ساتھ قریبی روابط قائم کیے تھے۔