امریکا، ایران کشیدگی کے دوران پاکستان قابل اعتماد ثالث کے طور پر سامنے آیا:ترک میڈیا

May 26, 2026 | 14:02:PM
امریکا، ایران کشیدگی کے دوران پاکستان قابل اعتماد ثالث کے طور پر سامنے آیا:ترک میڈیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(احمد منصور)امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان کے بطور ثالثی کردار کی پذیرائی کا سلسلہ جاری ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ  پاکستان عالمی سفارتی منظرنامے پر اہم کردار کے ساتھ سامنے آیا ہے۔

ترک میڈیا ٹی آر ٹی کے مطابق امریکا ایران کشیدگی کے دوران پاکستان دونوں فریقین کے مابین قابل اعتماد ثالث کے طور پر سامنے آیا ، علاقائی قوتوں کے برعکس پاکستان نے خاموش، منظم اور مؤثر سفارت کاری کا راستہ اپنایا۔

ترک میڈیا کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارت کاری تشہیر کے بجائے خاموش روابط اور بیک چینل ڈپلومیسی پر مبنی ہے، انہوں نے مشکل حالات میں بھی امریکا اور ایران کے درمیان روابط کا سلسلہ برقرار رکھا۔

ٹی آر ٹی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، عسکری و انٹیلی جنس ساکھ اور امریکا، ایران، چین، خلیجی ممالک اور ترکیہ کے ساتھ بیک وقت روابط نے اسے ایک منفرد سفارتی مقام دیا ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ حالیہ پاک سعودی دفاعی معاہدے نے پاکستان کی علاقائی ساکھ کو مزید مضبوط کیا ہے، جبکہ مغربی سرحدوں پر دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے مؤثر اقدامات بھی عالمی سطح پر تسلیم کیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان خطے میں ابھرتی سفارتی و معاشی طاقت تسلیم، عالمی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں نمایاں اضافہ، بلومبرگ بھی معترف

ترک میڈیا کے مطابق مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال میں پاکستان ایک قابلِ قبول ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، تاہم اس کے اثر و رسوخ کو مزید مستحکم بنانے کے لیے معاشی چیلنجز پر قابو پانا ضروری ہوگا۔

ترک میڈیا کی رپورٹ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں اب بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی امریکی، ایرانی، سعودی، عرب، ترکیہ اور قطری حکام پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہ چکے ہیں، جو خطے میں پاکستان کی متوازن اور مؤثر سفارت کاری کا واضح ثبوت ہے، یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی امن و استحکام کے فروغ میں ایک اہم اور قابل اعتماد کردار ادا کرتا رہا ہے۔