چین:کوئلے کی کان میں حادثہ، سپلائی بند، بجلی بحران کا خطرہ بڑھ گیا

May 26, 2026 | 11:59:AM
چین:کوئلے کی کان میں حادثہ، سپلائی بند، بجلی بحران کا خطرہ بڑھ گیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک )چین میں ایک بڑے کوئلہ کان حادثے کے بعد ملک کی متعدد کانوں میں حفاظتی وجوہات کی بنیاد پر پیداوار عارضی طور پر روک دی گئی ہے، جس کے باعث عالمی توانائی منڈی میں سپلائی کے دباؤ اور قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی صوبے شانشی  میں واقع لیوشینیو   کوئلہ کان میں گیس دھماکے کے نتیجے میں 82 افراد ہلاک ہوئے، جسے چین کی گزشتہ ایک دہائی کی سب سے بڑی کان کنی حادثات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ واقعے کے بعد صدر شی جن پنگ نے فوری تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ملک بھر میں کانوں کے حفاظتی معائنے سخت کرنے کی ہدایت جاری کی۔

صنعتی اعداد و شمار کے مطابق صرف شانشی صوبے میں 109 کانوں سے روزانہ تقریباً 3 لاکھ 19 ہزار میٹرک ٹن کوئلہ پیداوار عارضی طور پر روک دی گئی ہے، جو صوبے کی مجموعی پیداوار کا تقریباً 10 فیصد بنتی ہے۔ ان بندشوں کا دورانیہ عموماً 2 سے 7 دن تک بتایا جا رہا ہے، تاہم کچھ علاقوں میں یہ مدت مزید بڑھ بھی سکتی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں:ایران ، امریکہ کشیدگی،اہم ملک  مالامال ہو گیا، اربوں ڈالر کا فائدہ

ماہرین کے مطابق یہ کوئلہ نہ صرف بجلی کی پیداوار (Thermal Coal) بلکہ اسٹیل سازی میں استعمال ہونے والے کوکنگ کوئلہ (Coking Coal) کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ پیداوار میں اس کمی کے باعث گرمیوں کے دوران طلب بڑھنے پر سپلائی دباؤ میں آنے کا خدشہ ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو چین میں کوئلہ کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، جس کا اثر عالمی منڈیوں پر بھی پڑے گا۔ بعض ماہرین نے 2022–23 کی طرز کے توانائی بحران کی جزوی واپسی کے خدشات کا اظہار بھی کیا ہے، جب شدید گرمی اور طلب میں اضافے کے باعث بجلی کی قلت پیدا ہو گئی تھی۔

دوسری جانب کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر کانیں چند دنوں میں دوبارہ کھل جائیں گی، تاہم حفاظتی قوانین مزید سخت ہونے کی صورت میں مستقبل میں پیداوار اور لاگت دونوں متاثر ہو سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق چین، جو دنیا کی سب سے بڑی کوئلہ پیدا کرنے والی معیشت ہے، وہاں کسی بھی بڑی بندش کا اثر فوری طور پر عالمی توانائی اور صنعتی سپلائی چین پر محسوس کیا جاتا ہے۔